یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس سے متعلق تنازع نے اسرائیل اور یورپ کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی خلیج کو نمایاں کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ محض ایک سفارتی اختلاف نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ ہولوکاسٹ کے باعث اسرائیل کے لیے یورپ کی روایتی اخلاقی حساسیت اور غیر مشروط حمایت اب بتدریج کمزور پڑ رہی ہے، جبکہ غزہ جنگ کے بعد یورپی مؤقف پہلے سے زیادہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔
اسرائیل اور یورپی یونین کے تعلقات میں نئے بحران کی وجہ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر کا یہ اعلان ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کے ساتھ تمام سفارتی روابط معطل کیے جا رہے ہیں۔
یہ فیصلہ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا جن میں دعویٰ کیا گیا کہ کایا کالاس نے میکسیکو کے دورے کے دوران فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیلی پالیسی کو جنوبی افریقہ کے سابق نسل پرستانہ (اپارتھائیڈ) نظام سے تشبیہ دی۔
یہ بھی پڑھیے یورپی یونین کی اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کرنے اور وزرا پر پابندیوں کی تجویز
اس بیان پر اسرائیل میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے اسے اسرائیل کے خلاف منظم جانبداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک کالاس اپنے مبینہ بیان کی تردید یا وضاحت نہیں کرتیں، ان کے ساتھ سرکاری سطح پر رابطے معطل رہیں گے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل کو ’اپارتھائیڈ ریاست‘ قرار دینے سے یہودی ریاست کی بین الاقوامی قانونی و اخلاقی حیثیت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اسرائیل کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ کالاس نے سامنے آنے والی رپورٹس کی تردید نہیں کی، جسے سفارتی روایات میں عموماً خاموش تائید تصور کیا جاتا ہے۔
غزہ جنگ نے اختلافات مزید گہرے کر دیے
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع دراصل اسرائیل اور یورپ کے بعض سیاسی حلقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کی عکاسی کرتا ہے۔
غزہ میں جاری جنگ، فلسطینی علاقوں میں انسانی بحران اور مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیوں کے باعث یورپی یونین کے اندر بھی اختلافات نمایاں ہو چکے ہیں۔ اسپین اور فرانس اسرائیل پر سخت دباؤ ڈالنے کے حامی ہیں، جبکہ جرمنی کا مؤقف ہے کہ حد سے زیادہ سخت بیانات مذاکرات کے امکانات کو کمزور کر دیتے ہیں اور یورپی یونین کا ثالثی کردار متاثر ہوتا ہے۔
اسرائیل کے لیے صرف تنقید نہیں، نظریاتی چیلنج
اسرائیل میں اپارتھائیڈ سے متعلق موازنہ صرف حکومتی پالیسی پر تنقید نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے یہودی ریاست کی اخلاقی اور سیاسی بنیادوں کو چیلنج کرنے کی کوشش تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا۔

دوسری جانب یہ تنازع یورپی یونین کے لیے بھی ایک امتحان بن چکا ہے، کیونکہ خارجہ پالیسی کی سربراہ پورے یورپی بلاک کی نمائندگی کرتی ہیں۔
ہولوکاسٹ کی یاد اب پہلے جیسی سیاسی قوت نہیں رہی
رپورٹ کے مطابق اسرائیل طویل عرصے تک یہ سمجھتا رہا کہ یورپ دوسری جنگ عظیم اور ہولوکاسٹ کی تاریخی ذمہ داری کے باعث ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ خصوصی رویہ اختیار کرے گا۔
کئی دہائیوں تک اسرائیل اور یورپ کے تعلقات صرف تجارت، سفارت کاری یا سلامتی کے معاملات تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کی بنیاد بیسویں صدی کی المناک تاریخ اور ہولوکاسٹ کی یاد بھی تھی۔
اسرائیلی نقطۂ نظر کے مطابق یورپ پر یہودیوں کے خلاف ماضی کے مظالم کی ایسی اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیل پر ’نسلی امتیاز‘ یا ’اپارتھائیڈ‘ جیسے الزامات عائد کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔
یورپ میں تاریخ کی نئی تشریح؟
مضمون میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ یورپ میں تاریخی یادداشت کا معیار یکساں نہیں رہا۔
اگرچہ یورپی ممالک یہود دشمنی کی مذمت کرتے ہیں، تاہم بعض حلقے یوکرین کی بعض قوم پرست تنظیموں، جن پر ماضی میں یہودیوں کے خلاف تشدد کے الزامات عائد کیے جاتے رہے، کے کردار پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے فرانس نے اسرائیلی وزیر داخلہ کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی
مصنف کے مطابق اسرائیل کو بہت پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے تھا کہ اگر سیاسی ضرورت کے تحت تاریخ کے بعض ابواب کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے تو مستقبل میں یہی طرزِ عمل اسرائیل کے ساتھ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔
خاموش سفارت کاری اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے برسوں تک تاریخی حقائق کے تحفظ کے لیے یورپی یونین پر سفارتی دباؤ ڈالنے کے بجائے خاموشی اور محتاط رویہ اپنائے رکھا۔ شاید اسرائیل کا خیال تھا کہ ہولوکاسٹ کی یاد خود ہی اس کے لیے ایک مستقل اخلاقی تحفظ فراہم کرتی رہے گی، لیکن اب یہ اندازہ غلط ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
ٹرمپ کا عنصر بھی اہم قرار
رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو بھی اس تبدیلی کا ایک سبب قرار دیا گیا ہے۔
مصنف کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں نئی حکمت عملی اختیار کرنے اور اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کے تاثر میں تبدیلی نے یورپی ممالک کو زیادہ آزادانہ اور سخت مؤقف اپنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔
اسرائیل کے لیے نئے دور کا آغاز
تجزیے کے مطابق اگر مستقبل میں امریکی پالیسی دوبارہ تبدیل بھی ہو جائے، تب بھی یورپ کا مجموعی رویہ پہلے جیسا ہونے کا امکان کم ہے۔
مصنف کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے بعد یورپی بیانیہ پہلے سے زیادہ سخت ہو چکا ہے، کئی سفارتی حدود ٹوٹ چکی ہیں، اور اسرائیل کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ہولوکاسٹ کی تاریخی یاد اب مغرب میں سیاسی تحفظ کی ضمانت نہیں رہی۔
مضمون کے مطابق کایا کالاس سے متعلق حالیہ تنازع محض ایک سفارتی واقعہ نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اسرائیل اور یورپ کے تعلقات ایک ایسے نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں تعلقات پہلے کے مقابلے میں زیادہ سرد، زیادہ تناؤ کا شکار اور ماضی کی اخلاقی ذمہ داریوں سے کم متاثر ہوں گے۔














