پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے مالی سال کے پہلے کاروباری روز بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا، جہاں انڈیکس ابتدائی کاروباری اوقات میں تقریباً 3,600 سے زائد پوائنٹس اضافے کے ساتھ بلند سطح پر پہنچ گیا۔
دوپہر 3:05 بجے تک بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 183,917.83 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو گزشتہ اختتامی سطح کے مقابلے میں 3,616.13 پوائنٹس یعنی 2.01 فیصد زیادہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔
اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حبکو، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، مسلم کمرشل بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ جیسے شیئرز سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Market is up at midday 🚀
⏳ KSE 100 is positive by +2177.93 points (+1.21%) at midday trading. Index is at 182,479.63 and volume so far is 237.01 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/OeiMztXARC— Investify Pakistan (@investifypk) July 1, 2026
واضح رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے گزشتہ مالی سال کا اختتام بھی شاندار کارکردگی کے ساتھ کیا تھا، مالی سال 26-2025 کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
جبکہ انڈیکس مالی سال کے آخری کاروباری روز 180,301 پوائنٹس پر بند ہوا، جو مالی سال کے اختتام پر 125,627 پوائنٹس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری معاشی اصلاحات، بہتر معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد نے پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل تیزی کو فروغ دیا ہے۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیوں میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے نئے سہ ماہی کا آغاز محتاط انداز میں کیا، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نئی رکاوٹیں سامنے آئیں۔
جبکہ سرمایہ کار جاپانی ین کی مسلسل کمزور ہوتی قدر اور ممکنہ حکومتی مداخلت پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
جاپان کا نکی انڈیکس تقریباً ایک فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ جنوبی کوریا کا مرکزی انڈیکس 1.4 فیصد کمی کا شکار ہوا۔
سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود سے متعلق پالیسی اور روزگار کے اہم اعدادوشمار پر مرکوز ہے، جو عالمی مالیاتی منڈیوں کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔












