بھارت کے شہر ایودھیا میں قائم رام مندر ایک نئے تنازع کی زد میں آ گیا ہے، جہاں مندر انتظامیہ پر کروڑوں روپے مالیت کے عطیات میں مبینہ خرد برد کے الزامات سامنے آنے کے بعد پولیس تحقیقات، گرفتاریاں اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا کے 65 سالہ رہائشی برجیش کمار، جو برسوں سے اپنے گھر کی چھت سے رام مندر کو دیکھتے آئے ہیں، کہتے ہیں کہ مندر کی تعمیر نے ابتدا میں انہیں روحانی سکون دیا تھا، مگر حالیہ الزامات نے ان کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔
برجیش کمار کے مطابق، انہی لوگوں نے دھوکا دیا جن پر ہم نے اعتماد کیا تھا، انہوں نے ہمارے مذہبی جذبات کو لوٹا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: رام مندر میں 200 کروڑ روپے کی خردبرد، تحقیقات کے مطالبات شدت اختیار کر گئے
رام مندر، جس کی افتتاحی تقریب تقریباً ڈھائی سال قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں منعقد ہوئی تھی، ہندوؤں کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہونے لگا ہے اور یہاں لاکھوں عقیدت مند زیارت کے لیے آتے ہیں۔
یہ مندر اس مقام پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں کبھی 16ویں صدی کی بابری مسجد قائم تھی، جسے 1992 میں ہندو ہجوم نے منہدم کر دیا تھا۔
اس واقعے کے بعد ملک بھر میں ہونے والے فسادات میں تقریباً 2 ہزار افراد، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، ہلاک ہوئے تھے۔

رام مندر کی دیکھ بھال ایک آزاد ٹرسٹ ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ‘ کے سپرد ہے۔
اگرچہ یہ ٹرسٹ سرکاری کنٹرول سے باہر ہے، تاہم اس کے کئی عہدیدارحکمراں جماعت بی جے پی کی نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔
بدعنوانی کے الزامات اس وقت سامنے آئے جب ٹرسٹ کے سابق اکاؤنٹنگ سپروائزر مہی پال سنگھ نے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔
مزید پڑھیں: ایودھیا میں متنازع رام مندر کے افتتاح پر بھارتی مورخ کا انتباہ
اس کے بعد اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی دعویٰ کیا کہ مندر کو ملنے والے کروڑوں روپے کے عطیات غائب ہیں۔
بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے بعد بی جے پی حکومت نے 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی، جس نے اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی ہے۔
اگرچہ رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا، تاہم پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے کم از کم 8 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں نقد رقم اور قیمتی نذرانوں کی گنتی پر مامور افراد بھی شامل ہیں۔

اس دوران متعدد عقیدت مندوں نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جانب سے عطیہ کی گئی سونے کی زیورات، چاندی کی اینٹوں اور دیگر قیمتی اشیا کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔
گزشتہ جمعہ ٹرسٹ کے طویل عرصے سے جنرل سیکریٹری چمپت رائے سمیت کئی اہم ٹرسٹیوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔
چمپت رائے کو رام مندر تحریک کی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے، اس لیے ان پر لگنے والے الزامات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: رام مندر کی تعمیر کے باوجود بی جے پی کو ایودھیا میں کیوں شکست کا ہوئی؟
1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے مقدمے میں نامزد مگر بعد ازاں عدالت سے بری ہونے والے سنتوش دوبے بھی مندر انتظامیہ پر شدید تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ رام مندر ایسے مکار اور بے رحم چوروں کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے خوف کی فضا قائم کر دی ہے تاکہ کوئی ان کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت صرف نچلے درجے کے ملازمین کو گرفتار کر رہی ہے جبکہ اصل ذمہ داروں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایودھیا میں عظیم الشان مسجد کی تعمیر مئی میں شروع ہوگی، مسلمانوں کا اعلان
ان کا مطالبہ ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تنازع آئندہ سال کے آغاز میں متوقع اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ رام مندر طویل عرصے سے پارٹی کے اہم سیاسی بیانیے کا محور رہا ہے۔













