سپریم کورٹ: خواتین کے حقِ وراثت سے متعلق تاریخی فیصلہ، 71 سال بعد 2 بہنوں کا آبائی جائیداد میں حصہ بحال

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 71 سال پرانے کیس میں خواتین کے حقِ وراثت سے متعلق تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے 2 بہنوں کا آبائی جائیداد میں حصہ بحال کردیا۔

عدالت عظمیٰ نے یہ اصول بھی طے کردیا کہ زبانی ہبہ کا دعویٰ کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے فریق پر ہی اس دعوے کو ثابت کرنے کی قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

’1955 میں جائیداد اپنے نام منتقل کر لی گئی‘

فیصلے کے مطابق 1955 میں فریقین کے والد کے انتقال کے بعد ان کے 2 بیٹوں نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے موروثی جائیداد اپنے نام منتقل کرالی کہ مرحوم نے زندگی میں زبانی طور پر یہ جائیداد انہیں ہبہ کردی تھی۔

مزید پڑھیں: خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ

لاہور رجسٹری میں جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے نور محمد کی جانب سے دائر اپیل منظور کرتے ہوئے 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائیکورٹ کے وہ تمام متفقہ فیصلے کالعدم قرار دے دیے جن میں متنازع زبانی ہبے کو درست قرار دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے ریونیو حکام کو زمین کا ریکارڈ درست کرنے اور دونوں بہنوں کو قانون کے مطابق ان کا حق وراثت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

’خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے فراڈ کا الزام‘

فیصلے میں کہا گیا کہ تنازع 1955 سے شروع ہوا، جب والد کے انتقال کے بعد 2 بھائیوں نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے جائیداد اپنے نام منتقل کروا لی کہ انہیں زبانی ہبہ کیا گیا تھا۔

اپیل کنندگان کا مؤقف تھا کہ خواتین ورثا کو ان کے قانونی حقِ وراثت سے محروم کرنے کے لیے زبانی ہبے کی کہانی فراڈ کے ذریعے گھڑی گئی۔

’زبانی ہبہ ثابت کرنے کی ذمہ داری مستفید ہونے والوں پر ہوگی‘

سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ مبینہ زبانی ہبے سے فائدہ اٹھانے والے افراد پر ہی اس کے وجود کو ثابت کرنے کی قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے بنیادی غلطی کرتے ہوئے مبینہ زبانی ہبے کو ہی ثبوت تصور کر لیا، بجائے اس کے کہ یہ جانچتی کہ آیا ثبوت پیش کرنے کی قانونی ذمہ داری پوری بھی کی گئی یا نہیں۔ عدالت کے مطابق یہ طرزِ عمل طے شدہ قانونی اصولوں کے منافی تھا۔

سابق عدالتی فیصلے کا حوالہ

سپریم کورٹ نے فقیر علی و دیگر بنام سکینہ بی بی و دیگر مقدمے میں دیے گئے سابق فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جب کسی ہبے کے مستفید افراد خواتین ورثا کو وراثت سے خارج کرنا چاہتے ہوں تو ہبہ ثابت کرنے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ ایک مسلمہ قانونی اصول ہے کہ کسی ہبے کے درست اور فریقین پر لازم ہونے کے لیے تین بنیادی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے

’ہبہ کرنے والے کی جانب سے واضح اعلان، ہبہ قبول کرنے والے کی جانب سے قبولیت، اور جائیداد کا حقیقی قبضہ منتقل کیا جانا۔‘

’کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ثبوت دینا ضروری‘

سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ اگرچہ مبینہ زبانی ہبے کو کئی دہائیوں تک چیلنج نہیں کیا گیا، جیسا کہ جواب دہندگان نے مؤقف اختیار کیا اور ہائیکورٹ نے بھی اسے تسلیم کیا، تب بھی اس کی قانونی حیثیت ثابت کرنے کی ذمہ داری انہی افراد پر عائد رہتی ہے جو اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

تاخیر سے مقدمہ دائر کرنے کا اعتراض بھی مسترد

بینچ نے اس اعتراض کو بھی مسترد کردیا کہ دعویٰ غیر معمولی تاخیر سے دائر کیا گیا۔ عدالت نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مبینہ ہبے کے بعد بھی کئی برسوں تک والدہ اور بہنیں اس زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اپنا حصہ وصول کرتی رہیں۔

عدالت نے تفصیلی حکم میں نشاندہی کی کہ جائیداد پر قبضہ برقرار رکھنے کے بعد بیٹوں اور ان کے جانشینوں نے بعد ازاں تبادلہ اندراجات اور ہبہ کی مختلف کارروائیوں کے ذریعے یہ جائیداد اپنی آئندہ نسلوں کے نام منتقل کی۔

عدالت کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین ورثا کسی ایسے قانونی انتقال سے آگاہ ہی نہیں تھیں جس کے ذریعے انہیں وراثت سے محروم کیا گیا ہو۔

’خواتین کے حقِ وراثت کو آئینی، قانونی اور اسلامی تحفظ حاصل ہے‘

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ خواتین کے حقِ وراثت کو آئین، قانون اور اسلامی تعلیمات کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ وراثت مردوں کی صوابدید یا خاندان کی سخاوت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک قانونی اور شرعی حق ہے، جو کسی شخص کے انتقال کے ساتھ ہی تمام ورثا کو خودبخود منتقل ہو جاتا ہے۔

بینچ نے واضح کیاکہ خواتین کو نجی معاہدوں، خاندانی دباؤ یا روایتی رسم و رواج کے ذریعے ان کے حقِ وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے خبردار کیاکہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے کیے جانے والے ہر مبینہ اقدام، خواہ وہ جعلی ہبہ ہو، فراڈ پر مبنی میوٹیشن ہو یا کوئی فرضی انتظام، اسے سخت عدالتی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا ہوگا۔

خواتین کو وراثت سے محروم کرنا ایک سماجی مسئلہ

عدالت نے قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنا محض قانونی تنازع نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی مسئلہ ہے، جو اکثر عدالتوں تک پہنچنے سے پہلے خاندانوں کے اندر ہی جنم لیتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ خواتین کو خاندانی عزت، روایت یا سماجی دباؤ کے نام پر ان کے قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

آئینی دفعات کا حوالہ

سپریم کورٹ نے خواتین کے حقِ وراثت کے تحفظ کے لیے آئین کی مختلف دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:

• آرٹیکل 2-اے اسلام کے بیان کردہ جمہوریت، آزادی، مساوات، برداشت اور سماجی انصاف کے اصولوں کو آئین کا حصہ بناتا ہے۔

• آرٹیکل 25 قانون کے سامنے مساوات اور قانون کے یکساں تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

• آرٹیکل 23 اور 24 جائیداد حاصل کرنے، رکھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے حق کو تسلیم کرتے ہیں اور قانون کے مطابق ہی اس حق سے محروم کیے جانے کی اجازت دیتے ہیں۔

• آرٹیکل 35 ریاست کو خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ کا پابند بناتا ہے۔

• آرٹیکل 227 تمام قوانین کو اسلامی احکامات کے مطابق بنانے کا تقاضا کرتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ان آئینی ضمانتوں کو اسلامی احکامات کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہتا۔

’خواتین کو صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ عملی طور پر حق ملنا چاہیے‘

سپریم کورٹ نے کہاکہ ریاست، عدالتیں، ریونیو حکام اور معاشرہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ خواتین کو وراثت کا حق صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ عملی طور پر بھی فراہم کیا جائے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے بہن کے وراثتی حصے کے خلاف بھائی کی درخواست خارج کر دی

عدالت عظمیٰ نے ماتحت عدالتوں کے تمام فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ریونیو ریکارڈ درست کرنے اور دونوں بہنوں کو ان کا قانونی حقِ وراثت دلانے کا حکم جاری کردیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان آئیڈل کی واپسی؟ زیب بنگش نے مداحوں کو خوشخبری سنا دی

مومنہ اقبال کیس میں پیشرفت، تفتیش مکمل، ثاقب چدھڑ کے خلاف رپورٹ عدالت میں پیش

آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ (ن) 9 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، رانا ثناء اللہ

شوہر کی دوسری شادی کے موقع پر پہلی بیوی کا دھاوا، تقریب منسوخ اور شوہر پولیس کے حوالے

بدخشاں میں طالبان کے اعلیٰ عہدیدار کی ہلاکت، افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر سوالیہ نشان؟

ویڈیو

جب تک ن لیگ کی حکومت قائم ہے پیپلزپارٹی اتحاد کا حصہ رہے گی، حسن مرتضیٰ

آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ 13 میں سے 9 نشستیں جیت کر سب سے آگے، چیف الیکشن کمشنر نے پہلا مرحلہ شفاف قرار دے دیا

سائیکل ایمبولینس: ہنگامی ضرورت یا ترقی کی رفتار پر سوال؟

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی