وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت ملک بھر میں دانش اسکولز اور دانش یونیورسٹی کے قیام سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ دانش اسکولز اور دانش یونیورسٹی قومی اثاثے ہیں اور ملک بھر میں دانش اسکولز جبکہ اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی کا قیام قوم کے روشن مستقبل کے لیے بہترین سرمایہ کاری ہے۔
مزید پڑھیں: ’علم حاصل کرنے سے ہی عزت بڑھتی ہے‘، مریم نواز کا بھکر میں دانش اسکول کا افتتاح
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مظفرآباد میں دانش یونیورسٹی کا ٹیک کیمپس قائم کیا جائے، جبکہ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں دانش اسکولز کی تعمیر جلد از جلد مکمل کی جائے۔
انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ دانش اسکولز کے ڈیزائن کو مقامی ثقافت سے ہم آہنگ بنایا جائے۔
وزیراعظم نے کہاکہ دانش اسکولز اور دانش یونیورسٹی میں تدریسی اور دیگر عملے کی بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں۔
انہوں نے دانش اسکولز کی تعمیر میں تیز رفتار پیشرفت پر وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ٹیم کو سراہا۔
27 دانش اسکولز اور دانش یونیورسٹی پر پیشرفت
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں 27 دانش اسکولز کے قیام، جبکہ اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی کی تعمیر پر پیشرفت جاری ہے۔
بریفنگ کے مطابق اسلام آباد کے علاقے کرسچین کالونی میں دانش اسکول کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور وہاں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ باغ، بھمبر، سلطان آباد، گھانچے اور استور میں دانش اسکولز کی تعمیر آخری مراحل میں ہے، جہاں اپریل 2027 سے باقاعدہ کلاسز شروع کر دی جائیں گی۔
دانش یونیورسٹی میں 2027 سے تدریس کا آغاز
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ دانش یونیورسٹی کے لیے تدریسی عملے کی بھرتیوں کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی میں 2027 کے دوران تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ طلبہ کو ملک بھر، خصوصاً پسماندہ علاقوں سے، مکمل میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: پارلیمنٹ نے دانش اسکول اتھارٹی سمیت 3 اہم قوانین منظور کرلیے، اپوزیشن کا احتجاج رائیگاں
اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، عطااللہ تارڑ، خالد مقبول صدیقی اور متعلقہ اداروں کے سینیئر حکام نے شرکت کی۔














