پیٹرولیم مصنوعات صارفین کے ہاتھ سے نکل گئیں، گزشتہ ماہ فروخت میں 20 فیصد کمی

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک میں جون 2026 کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سالانہ بنیاد پر 20 فیصد کم ہو کر 12 لاکھ 60 ہزار ٹن رہ گئی، تاہم ماہانہ بنیاد پر 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں ایندھن کی بلند قیمتوں نے طلب کو متاثر کیا، جبکہ جون میں قیمتوں میں کمی کے بعد فروخت میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی تجزیہ کار مائشہ سہیل کے مطابق جون 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سالانہ بنیاد پر 20 فیصد کم ہو کر 12 لاکھ 60 ہزار ٹن رہی، تاہم مئی کے مقابلے میں اس میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ بنیاد پر فروخت میں کمی کی بنیادی وجہ ایندھن کی نسبتاً بلند قیمتیں تھیں، جبکہ جون میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنے کے بعد فروخت میں بحالی دیکھنے میں آئی۔

یہ بھی پڑھیے خام تیل کی قیمتوں میں کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہونے کا امکان ہے؟

اعداد و شمار کے مطابق جون میں پیٹرول کی اوسط قیمت 338 روپے فی لیٹر رہی، جو گزشتہ سال اسی ماہ کے 256 روپے فی لیٹر کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ تھی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی اوسط قیمت 346 روپے فی لیٹر رہی، جو ایک سال قبل 259 روپے فی لیٹر کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہے۔

تاہم ماہانہ بنیاد پر جون میں پیٹرول کی قیمت میں 16 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

جون کے دوران پیٹرول کی فروخت سالانہ بنیاد پر 11 فیصد کم ہو کر 6 لاکھ 49 ہزار ٹن رہی، جبکہ مئی کے مقابلے میں اس میں 5 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 میں پیٹرول کی فروخت 76 لاکھ 77 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت جون میں سالانہ بنیاد پر 20 فیصد کم ہو کر 4 لاکھ 97 ہزار ٹن رہی، تاہم ماہانہ بنیاد پر اس میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔ پورے مالی سال کے دوران ڈیزل کی فروخت 68 لاکھ 51 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ایک فیصد کم ہے۔

یہ بھی پڑھیے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ایک سال میں کتنے ارب ڈالر خرچ کیے گئے؟

فرنس آئل کی فروخت جون میں سالانہ بنیاد پر 68 فیصد کم ہو کر 41 ہزار ٹن رہی، تاہم ماہانہ بنیاد پر اس میں 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2025-26 کے دوران فرنس آئل کی مجموعی فروخت 5 لاکھ 99 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 26 فیصد کم ہے۔

کھاد کی فروخت

جون کے دوران یوریا کی فروخت سالانہ بنیاد پر تقریباً مستحکم رہی اور 5 لاکھ 84 ہزار ٹن ریکارڈ کی گئی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر اس میں 39 فیصد اضافہ ہوا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ماہانہ بنیاد پر یہ اضافہ خریف کی فصل کے لیے کھاد کے استعمال کے عروج کے موسم کے باعث سامنے آیا، کیونکہ مئی میں خریداری مؤخر کرنے والے کسانوں نے جون میں دوبارہ یوریا کی خریداری شروع کی۔

دوسری جانب ڈی اے پی کھاد کی فروخت جون میں سالانہ بنیاد پر 59 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 23 فیصد کم ہو کر 47 ہزار ٹن رہنے کا امکان ہے۔ اس طرح 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران ڈی اے پی کی مجموعی فروخت 4 لاکھ 84 ہزار ٹن تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سونے کی قیمت میں آج کتنا بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا؟

سانحہ کاہنہ: وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی متاثرہ خاندانوں سے ملاقات، مالی امداد کے چیکس تقسیم

اے آئی سےزیادہ منافع کمانے کا منصوبہ، مائیکرو سافٹ اور AWS نے ہزاروں انجینئرز پر مشتمل نیا یونٹ قائم کرنے کا اعلان کردیا

تاجروں کے مسائل حل کرنا حکومت کی ترجیح، برآمدکنندگان اور ایس ایم ایز کو مزید سہولیات دیں گے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

معاشی اشاریے مثبت، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کا امکان، گورنر اسٹیٹ بینک

ویڈیو

دانہ سر بس حادثہ: 40 مسافر جاں بحق، 8 زخمی

کوئٹہ: گرمی کا توڑ کابلی آئس کریم کی خاص بات کیا ہے؟

بلوچستان سانحہ: گوگل پر مکمل انحصار خطرناک، دور دراز علاقوں میں آف لائن میپس اور ذاتی فیصلہ کیوں ضروری؟

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو