تازہ ترین ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا میں 100ویں نمبر پر ہے اور اس کے حامل افراد کو 30 ممالک میں ویزا فری، ویزا آن ارائیول (VOA) یا الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) کے ذریعے سفر کی سہولت حاصل ہے۔
بین الاقوامی موبیلیٹی رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ فروری 2026 میں مختصر عرصے کے لیے 97ویں نمبر پر پہنچ گیا تھا، تاہم عالمی ویزا پالیسیوں اور دوطرفہ سفری انتظامات میں تبدیلیوں کے بعد دوبارہ 100ویں پوزیشن پر آ گیا۔ اس کے باوجود یہ 2025 کے اختتام پر حاصل ہونے والی 103ویں درجہ بندی سے بہتر مقام پر ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری 11 ممالک میں بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ ان ممالک میں بارباڈوس، کُک آئی لینڈز، ڈومینیکا، ہیٹی، مائکرونیشیا، مونٹسریٹ، روانڈا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈائنز، گیمبیا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور وانواتو شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو 16 ممالک اور خطوں میں ویزا آن ارائیول کی سہولت حاصل ہے، جن میں برونڈی، کمبوڈیا، کیپ وردے، کوموروس، جبوتی، گنی بساؤ، مڈغاسکر، مالدیپ، نیپال، نیوئے، پلاؤ، ساموا، سینیگال، سیرا لیون، تیمور لیستے اور تووالو شامل ہیں۔
اسی طرح کینیا، سیشلز اور سری لنکا ایسے ممالک ہیں جہاں پاکستانی مسافر سفر سے قبل الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) حاصل کر سکتے ہیں۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق درجہ بندی کا تعین ان ممالک کی تعداد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جہاں کسی ملک کے شہری روایتی ویزا حاصل کیے بغیر سفر کر سکتے ہیں۔ اس وقت پاکستانی پاسپورٹ سفری آزادی کے لحاظ سے عراق، شام اور افغانستان سے بہتر درجہ بندی رکھتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنگاپور کا پاسپورٹ بدستور دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہے، جس کے حامل افراد 192 ممالک میں ویزا فری یا آسان سفری رسائی رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں:اب ملے گا پاکستانی پاسپورٹ نئے ڈیزائن کے ساتھ، کیا کچھ تبدیل کیا جارہا ہے؟
دوسری جانب پاکستان میں بائیومیٹرک ای پاسپورٹ کا نظام ملک بھر میں نافذ کیا جا چکا ہے۔ جدید مائیکرو چِپ اور محفوظ پولی کاربونیٹ ڈیٹا پیج پر مشتمل یہ پاسپورٹ سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں بین الاقوامی سفری معاہدوں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
حکام نے بیرون ملک سفر کرنے والوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر سے قبل اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا پاسپورٹ روانگی کی تاریخ سے کم از کم 6 ماہ تک مؤثر ہو، کیونکہ بیشتر ویزا فری اور ویزا آن ارائیول ممالک کے لیے یہ شرط لازمی ہے۔














