کراچی میں رینجرز کے دفتر پر ہونے والے حالیہ حملے کا مرکزی مقدمہ محکمہ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) میں سرکار کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس واقعے کے پس منظر اور شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی طور پر 5 مقدمات درج کیے جائیں گے۔
ایف آئی آر کی تفصیلات اور سنگین دفعات
حکام کے مطابق اس اہم ایف آئی آر میں قتل اور اقدامِ قتل، انسدادِ دہشتگردی ایکٹ(اے ٹی اے) ایکسپلوسیو ایکٹ (دھماکا خیز مواد کا قانون)، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ، ریاست مخالف سرگرمیوں اور دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اس مرکزی ایف آئی آر کے اندراج کے بعد دیگر 4 ضمنی مقدمات کے اندراج کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں رینجرز کی تنصیب پر دہشتگرد حملہ، 5 حملہ آور ہلاک، جوابی کارروائی جاری
تفتیشی حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ کراچی کے گنجان آباد علاقے گلستانِ جوہر میں ہفتے کی رات سندھ رینجرز کے بھٹائی ونگ ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے دہشتگرد حملے کا مرکزی مقدمہ محکمہ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) میں سرکاری مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔
اس بزدلانہ حملے میں رینجرز کے 3 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ 4 زخمی ہوئے تھے۔ دوسری جانب سیکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں 5 دہشتگرد ہلاک اور ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
گرفتار زخمی دہشتگرد کے ہوشربا انکشافات
سیکیورٹی فورسز نے مقابلے کے دوران ایک دہشتگرد کو زخمی حالت میں زندہ گرفتار کیا، جس کی شناخت عثمان علی کے نام سے ہوئی، اور وہ افغان شہری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں رینجرز پر حملہ: 2 پی پی امیدواروں سمیت 35 افراد کے خلاف مقدمہ درج
دورانِ تفتیش عثمان نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو افغانستان کے علاقے جلال آباد اور دیگر ٹھکانوں پر عمر قاری نامی کمانڈر نے خودکش جیکٹس بنانے اور ہتھیار چلانے کی تربیت دی تھی، دہشتگردوں کا تعلق جماعت الاحرار سے تھا۔














