گوگل نے ڈھونڈنے کی جھنجھٹ ختم کردی، ای میل اب آواز دے کر طلب فرمائیں

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل نے اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون جیمینی کی صلاحیتوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے ’جی میل لائیو‘ نامی نئے فیچر کی آزمائش شروع کر دی ہے جس کی مدد سے صارفین اب ٹائپنگ کے بجائے اپنی آواز کے ذریعے جی میل میں ای میلز اور معلومات تلاش کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جی میل میں تاریخی تبدیلی، گوگل کا نیا فیچر کیا کچھ بدل سکتا ہے؟

گوگل نے اس فیچر کو پہلی بار گوگل آئی/او 2026 کے دوران متعارف کرایا تھا جبکہ اب اسے محدود پیمانے پر اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین کے لیے آزمائشی طور پر جاری کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس فیچر کو رواں موسم گرما کے آخر تک مزید صارفین کے لیے متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

گوگل کی معاون دستاویزات کے مطابق فی الحال ’جی میل لائیو‘ صرف امریکا میں، انگریزی زبان میں اور ان صارفین کے لیے دستیاب ہے جنہیں گوگل ورک اسپیس ایکسپیریمنٹس تک رسائی حاصل ہے۔

جی میل لائیو کیسے کام کرے گا؟

اس نئے فیچر کے تحت جی میل کے سرچ بار میں ایک خصوصی ’لائیو‘ آئیکون شامل کیا گیا ہے۔ اس آئیکون پر کلک کرنے سے ایک فل اسکرین وائس انٹرفیس کھل جاتا ہے جہاں صارفین کو مختلف تجاویز بھی فراہم کی جاتی ہیں جیسے ’میری حالیہ خریداریوں سے متعلق اپ ڈیٹس کیا ہیں‘، یا ’میرے آئندہ سفر کی تاریخیں کیا ہیں‘، وغیرہ۔

مزید پڑھیے: گوگل نے جی میل ایڈریس تبدیل کرنے کی سہولت متعارف کرا دی

جیسے ہی صارف بولنا شروع کرتا ہے اسکرین کے کناروں پر نیلی روشنی نمودار ہوتی ہے اور صارف کی بات کو فوری طور پر تحریری شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جی میل لائیو سوال کا جواب تلاش کرکے نہ صرف اسے اسکرین پر دکھاتا ہے بلکہ بلند آواز میں پڑھ کر بھی سناتا ہے۔ جواب کے ساتھ متعلقہ ای میل بھی ظاہر کی جاتی ہے تاکہ صارف معلومات کی تصدیق کر سکے۔

اس وائس انٹرفیس میں مائیکروفون کو بند کرنے اور دوبارہ عام جی میل ان باکس میں واپس جانے کے لیے علیحدہ بٹن بھی موجود ہیں۔

گوگل کی ’وائس فرسٹ‘ حکمت عملی کا حصہ

جی میل لائیو، گوگل کی آواز پر مبنی مصنوعی ذہانت کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس سے قبل کمپنی جیمنائی لائیو متعارف کرا چکی ہے جس کے ذریعے صارفین مصنوعی ذہانت کے معاون سے قدرتی انداز میں گفتگو کر سکتے ہیں اور یاددہانیوں یا کیلنڈر ایونٹس جیسے کام بھی انجام دے سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ان باکس ذاتی اسسٹنٹ میں بدلنے کے لیے جی میل نے نیا اے آئی فیچر متعارف کروا دیا

اسی طرح سرچ لائیو فیچر نے گوگل سرچ میں صارفین کو آواز کے ذریعے سوالات پوچھنے اور جوابات سننے کی سہولت فراہم کی ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ آزمائشی مرحلے کی تکمیل کے بعد جی میل لائیو کو اے آئی پرو اور اے آئی الٹرا سبسکرائبرز کے لیے متعارف کرایا جائے گا جبکہ مستقبل میں اسی نوعیت کے وائس فیچرز کو گوگل ڈاکس اور گوگل کیپ میں بھی شامل کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ صارفین دستاویزات تیار کرنے اور نوٹس بنانے کے لیے بھی آواز کا استعمال کر سکیں۔

فی الحال ’جی میل لائیو‘ فیچر صرف امریکا میں محدود پیمانے پر آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرایا گیا ہے اور یہ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں دستیاب نہیں۔ تاہم گوگل نے عندیہ دیا ہے کہ آزمائشی مرحلے کی تکمیل کے بعد اس فیچر کو بتدریج مزید ممالک اور صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: جی میل میں اب لمبی ای میلز پڑھنا نہایت آسان، مگر کیسے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیچر کامیاب ثابت ہوا تو مستقبل میں دنیا بھر کے صارفین اپنی ای میلز کو ٹائپ کرنے کے بجائے صرف آواز کے ذریعے تلاش اور منظم کر سکیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے باوجود ارلنگ ہالینڈ کی منفرد شخصیت کی دھوم

فضل الرحمان نے پوری تاریخِ اسلام کے شہدا کی تضحیک کی ہے، فیاض الحسن چوہان

’آپ کو شرم آنی چاہیے‘، خالی کمرے میں اے سی چلتا دیکھ کر وزیر صحت پنجاب کا اسپتال انتظامیہ پر سخت اظہارِ برہمی

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن تیار، صوبائی حکومت سے مشاورت جاری

شہدا کی قربانیوں کو تنخواہ یا مراعات سے نہیں تولا جا سکتا، شہدا پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، حنیف عباسی

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم