چین کی معروف روبوٹکس کمپنی ’یو بی ٹیک‘ نے مصنوعی ذہانت سے لیس انتہائی حقیقت سے قریب ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹس کی نئی سیریز متعارف کرا دی ہے۔
ان روبوٹس کو خاص طور پر انسانوں کے ساتھ جذباتی رفاقت اور طویل المدتی ساتھ نبھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
جذبات سمجھنے والا ’ایموشنل لارج لینگویج ماڈل‘
کمپنی کے مطابق منگل کے روز متعارف کرائی گئی اس ’یو ون سیریز‘ میں مرد اور خواتین دونوں طرز کے روبوٹس شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ملازمتوں کے لیے خطرہ ڈیلیوری روبوٹس اب شہریوں کا راستہ بھی روکنے لگے
ان روبوٹس میں ایک جدید ترین اے آئی نظام نصب کیا گیا ہے، جس میں موجود ’ایموشنل لارج لینگویج ماڈل‘ 20 سے زیادہ انسانی جذبات کو 90 فیصد سے زیادہ درستی کے ساتھ پہچاننے اور ان کے مطابق ردِعمل دینے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
قیمتیں اور دستیاب ماڈلز
یو ون سیریز میں صارفین کی پسند اور ضرورت کے مطابق مختلف ماڈلز پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں 1 لاکھ 19 ہزار 800 یوآن مالیت کے روبوٹک دھڑ سے لے کر مکمل قد کے ہیومنائیڈ روبوٹس تک شامل ہیں۔
اس سیریز کے سب سے مہنگے اور جدید ترین ماڈل کی قیمت 9 لاکھ 90 ہزار یوآن ’تقریباً 1 لاکھ 45 835 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
حقیقی انسانی جلد اور باریک جسمانی خدوخال
ان روبوٹس کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی بناوٹ ہے، جس میں انتہائی حقیقی انسانی چہرے، ڈیجیٹل جلد، مسام، خون کی باریک رگیں اور فنگر پرنٹس جیسے باریک ترین جسمانی خدوخال شامل کیے گئے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان خصوصیات کا مقصد انسان اور روبوٹ کے درمیان ایک قدرتی اور مؤثر رابطہ قائم کرنا ہے۔
ہزاروں آرڈرز موصول اور مارکیٹ کا مستقبل
مارکیٹ میں آتے ہی ان روبوٹس کو شدید پزیرائی ملی ہے اور اب تک کمپنی کو ’یو ون‘ سیریز کے 13,361 آرڈرز موصول ہو چکے ہیں، جن کی فراہمی رواں سال کے دوران ہی مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
مزید پڑھیں:یوکرین کی جنگ میں روبوٹس کا بڑھتا کردار، روس دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور
یو بی ٹیک کے چیف برانڈنگ آفیسر تان من کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ چین میں ان روبوٹس کی مارکیٹ آئندہ دس برسوں (2026 سے 2036) کے دوران دسیوں ارب یوآن سے بڑھ کر کھربوں یوآن تک پہنچ جائے گی۔
سوشل میڈیا پر ‘سائبر رفقاء’ کی نئی بحث
اس انقلابی پیش رفت کے بعد چینی سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ نیٹ ورکرز کی جانب سے ’سائبر بوائے فرینڈ‘ اور ‘سائبر گرل فرینڈ” جیسے اے آئی پر مبنی رفاقتی روبوٹس کے مستقبل اور ان کے اخلاقی پہلوؤں اور انسانی رشتوں پر پڑنے والے اثرات کو لے کر تفصیلی گفتگو کی جا رہی ہے۔














