بلوچستان اپنی منفرد ثقافت، روایات اور لذیذ پکوانوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ انہی روایتی ذائقوں میں مشہور کابلی آئس کریم، جسے مقامی زبان میں شیر رخ بھی کہا جاتا ہے، گرمیوں کے موسم میں شہریوں اور سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں:کیا ایسی آئس کریم بنائی جاسکتی ہے جو شدید گرمی میں بھی نہ پگھلے؟
کابلی آئس کریم بنانے والے نعمت اللہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شیر رخ عام آئس کریم سے بالکل مختلف ہوتی ہے کیونکہ اسے خالص دودھ، چینی اور وافر مقدار میں ملائی سے تیار کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پہلے دودھ میں چینی شامل کرکے اسے اچھی طرح پکایا جاتا ہے، پھر ٹھنڈا ہونے پر اس میں ملائی شامل کرکے خوب مکس کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس آمیزے کو برف سے بھرے خصوصی پتیلے میں کئی گھنٹوں تک مسلسل گھمایا جاتا ہے، جس کے بعد یہ گاڑھی، نرم اور مکھن جیسی ساخت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی منفرد طریقۂ تیاری اس کے ذائقے کو عام آئس کریم سے ممتاز بناتا ہے۔
کراچی سے آئے ایک سیاح نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابلی آئس کریم نہایت لذیذ ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ دیر تک زبان پر برقرار رہتا ہے۔ ان کے مطابق اس کی نرم، ملائم اور مکھن جیسی ساخت اسے دیگر آئس کریموں سے منفرد بناتی ہے۔
مزید پڑھیں:کیا ایسی آئس کریم بنائی جاسکتی ہے جو شدید گرمی میں بھی نہ پگھلے؟
گرمی کی شدت میں کوئٹہ آنے والے سیاح اور مقامی شہری بڑی تعداد میں اس روایتی آئس کریم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جبکہ کابلی آئس کریم آج بھی بلوچستان کی ثقافتی اور ذائقہ دار شناخت کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔












