پی ٹی آئی قیدیوں کے لیے 90 کروڑ روپے کہاں خرچ ہوئے؟ شاندانہ گلزار کا سوال

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے قیدیوں کے لیے 40 کروڑ روپے دیے تھے، جبکہ تقریباً 50 کروڑ روپے بیرون ملک سے آئے تھے۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی شاندانہ گلزار نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا نہ بیرون ملک کوئی اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی یہاں، جن لوگوں کے پاس قیدیوں کے لیے رقم آئی، انہیں بھی معلوم ہے کہ پیسہ کہاں خرچ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، شاندانہ گلزار کا علیمہ خان کے انٹرویو پر سخت ردعمل

شاندانہ گلزار نے کہا کہ ہم جھوٹی این جی اوز بنا رہے ہیں، جب آپ تہمت لگائیں گے تو پھر سچائی سے پردہ اٹھے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ این جی اوز کے نام بتائے جائیں اور یہ بھی بتایا جائے کہ پیسے کن لوگوں میں تقسیم ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب 26 اکتوبر کے قیدی جیلوں میں مار کھا رہے تھے تو ہم نے جا کر انہیں نکالا، اس وقت این جی اوز اور بڑی بڑی باتیں کرنے والے کہاں تھے؟

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وہ آج بھی اپنی بات پر قائم ہیں، انکوائری کمیشن پارٹی کے اندر اس وقت بنتا جب پیسے پارٹی کو ملتے، لیکن پارٹی کو کوئی رقم نہیں ملی۔ نہ اراکین قومی اسمبلی اور نہ ہی اراکین صوبائی اسمبلی کو پیسے ملے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مجھے پیسے ملے ہوتے تو کیا میں اپنے قیدیوں یا کارکنوں کو نہ دیتی؟ قیدیوں کے لیے جمع کیے گئے پیسے قیدیوں کو نہیں ملے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو دن میں 4 سے زائد بار ڈیل کی پیشکش ہوتی ہے، شاندانہ گلزار

شاندانہ گلزار نے کہا کہ اب تھرتھلی مچ چکی ہے اور نیا ڈراما شروع ہوچکا ہے۔ کسی نے انہیں پیغام بھیجا کہ قیدیوں کے لیے جمع کیے گئے پیسے واپس بیرون ملک چلے گئے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ پیسے وصول کس نے کیے اور واپس کس نے بھیجے؟ علی امین گنڈاپور سے پوچھا جائے کہ انہوں نے جو پیسے دیے تھے، وہ کس کو دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور نے اپنی جیب سے، اپنی زمینیں بیچ کر پیسے دیے تھے۔

شاندانہ گلزار نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا تھا کہ وہ پیسے ہمارے نہیں بلکہ قیدیوں اور بے گناہوں کے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp