ایران نے  آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نئی وارننگ جاری کردی، امریکی کردار پر بھی شدید تنقید

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ تہران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستوں اور نیوی گیشن ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے تو انہیں فوری اور سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر کی ثالثی میں جاری بالواسطہ ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کی سلامتی اور جہاز رانی کا معاملہ اب بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم اختلافی نکتہ بنا ہوا ہے۔

معروف عرب ٹی وی چینل ’الجزیرہ‘ نے ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے  حوالے سے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مقررہ بحری گزرگاہ سے انحراف یا جہاز رانی کے قواعد کو نظرانداز کرنے والے جہازوں کو ایرانی مسلح افواج کے فوری اور بھرپور ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے ان بحری جہازوں کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے ’اسلام آباد ایم او یو‘ کیا امن کا عارضی وقفہ ہے، آبنائے ہرمز کا معاملہ سب سے زیادہ اہمیت کیوں اختیار کر گیا ہے؟

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل قطری ثالثوں نے ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’مثبت پیشرفت‘ کی اطلاع دیتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ دونوں ممالک مستقل امن معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اگرچہ ایران نے اس وارننگ کی کوئی براہِ راست وجہ بیان نہیں کی، تاہم یہ بیان امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے بحرین میں منعقدہ ایک علاقائی سلامتی اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں شریک ممالک نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس میں قانونی نظم و سلامتی قائم کرنے کا اختیار کسی بیرونی فورم کو حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اور سلامتی صرف بیرونی مداخلت کے خاتمے، امریکی افواج کے انخلا، علاقائی ممالک کی خودمختاری کے احترام اور نئی جغرافیائی و سیاسی حقیقتوں کو تسلیم کرنے سے ممکن ہے، نہ کہ امریکا کی عسکری چھتری تلے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً ایک پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی تجارت گزرتی ہے، ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کا ایک اہم اور حساس موضوع بن چکی ہے۔ دونوں ممالک 17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگرچہ ایران نے مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم تہران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ جہاز ایرانی ساحل کے قریب متعین کردہ راستہ استعمال کریں، بصورت دیگر کارروائی کی جا سکتی ہے۔

جہاز رانی کی نگرانی کرنے والے ادارے MarineTraffic کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد اب تک آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر کم از کم 49 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں حالیہ دنوں سنگاپور کے پرچم بردار مال بردار جہاز اور پاناما کے رجسٹرڈ تجارتی جہاز پر ڈرون حملے بھی شامل ہیں، جن کی ذمہ داری زیادہ تر ایران پر عائد کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی تو مذاکرات ختم ہو جائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

اعداد و شمار کے مطابق 17 جون کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم یہ اب بھی جنگ سے قبل یومیہ تقریباً 130 جہازوں کی آمدورفت کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ بدھ کو 45 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ منگل کو یہ تعداد 34 تھی۔

دوسری جانب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کی مثبت اطلاعات کے بعد جمعرات کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، تاہم ایشیائی مارکیٹیں کھلنے پر قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں۔ برینٹ خام تیل کے اگست کے سودے جمعہ کو 72.07 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتے رہے، جبکہ ایک روز قبل قیمت پہلی مرتبہ 71 ڈالر فی بیرل سے نیچے آئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور دھچکا، امریکی اپیل کورٹ نے تارکینِ وطن کے حق میں اہم فیصلہ سنا دیا

وزیراعظم شہباز شریف آج ایران کا دورہ کریں گے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں، باہمی تعاون اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا

دانہ سر بس حادثہ: 40 مسافر جاں بحق، 8 زخمی

’لاہور میں ہماری بہترین مہمان نوازی کی گئی‘ عمران ہاشمی نے پاکستانیوں کی تعریفوں کے پل باندھ دیے

امریکا کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت، دہشتگرد حملوں کے خلاف کارروائیوں کو جائز قرار دیا

ویڈیو

کوئٹہ: گرمی کا توڑ کابلی آئس کریم کی خاص بات کیا ہے؟

بلوچستان سانحہ: گوگل پر مکمل انحصار خطرناک، دور دراز علاقوں میں آف لائن میپس اور ذاتی فیصلہ کیوں ضروری؟

سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن کا بنیادی ستون، بھارت یکطرفہ طور پر اسے معطل نہیں کر سکتا، احمر بلال صوفی

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو