وزیراعظم شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکیہ کے سرکاری دورے کریں گے، جہاں وہ ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کریں گے، جبکہ ترکیہ میں صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات اور پاک ترک تجارتی و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر بات چیت کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آج سے ایران اور ترکیہ کے 3 روزہ سرکاری دوروں کا آغاز کریں گے۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام بھی ہوں گے۔

وزیراعظم اپنے دورۂ ایران کے دوران مرحوم ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ وہ ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے ملاقات کر کے حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کریں گے، جبکہ غم کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ بھی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد میں دانش یونیورسٹی کا ٹیک کیمپس قائم کیا جائے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت
بعد ازاں وزیراعظم استنبول روانہ ہوں گے، جہاں وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر ان سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما پاک ترکیہ تعلقات، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن و سلامتی اور باہمی تعاون کے مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم استنبول میں پاکستان کے زیر اہتمام ایک بزنس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے، جس میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، سرمایہ کار، سرکاری حکام اور دیگر اہم شرکا شرکت کریں گے۔

کانفرنس میں پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، نجکاری اور دیگر ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے جائیں گے۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس دورے سے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوں گے، جبکہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔














