بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

جمعہ 3 جولائی 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

    مارچ انیس سو اڑتالیس کا واقعہ ہے۔ پاکستان بنے ابھی سات ماہ ہی ہوئے تھے کہ بھارت نے پنجاب کو سیراب کرنے والی دو نہروں کا پانی روک دیا۔ پانچ ہفتوں تک ہمارے پنجاب کی قابل کاشت زمین کا خاصا بڑا حصہ پانی کی بوند بوند کو ترستا رہا۔ اسی بحران نے سعادت حسن منٹو سے وہ افسانہ لکھوایا جس کا نام انہوں نے ’یزید‘ رکھا۔ افسانے کا مرکزی کردار اپنے نومولود بیٹے کا نام ’یزید‘ رکھتا ہے تو گاؤں والے حیران رہ جاتے ہیں۔ وہ سادگی سے جواب دیتا ہے کہ ضروری نہیں یہ بھی وہی ’یزید‘ ہو، اس نے پانی بند کیا تھا، یہ کھولے گا۔

یہ حوالہ اس لیے یاد آیا کہ آج اٹھہتر برس بعد بھی کہانی وہیں کھڑی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انیس سو اڑتالیس والے بھارت نے دنیا کی نظروں کا لحاظ کیا اور بارہ برس بعد عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ کر لیا۔ آج کا بھارت نقاب اتار چکا ہے۔ اب وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں نہیں بلکہ ببانگ دہل کہہ رہا ہے کہ پاکستان کو پانی نہیں دیں گے۔

صورتحال کس قدر بگڑ چکی ہے؟

  اپریل دو ہزار پچیس میں پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تو خاکسار نے وی نیوز کے لیے اپنے تفصیلی کالم میں لکھا تھا کہ بھارت فوری طور پر ہمارے دریاؤں کا پانی نہیں روک سکتا، البتہ مستقبل کے لیے ہوشیار رہنا ہو گا۔ وہ مستقبل اب ہماری دہلیز پر آ کھڑا ہوا ہے۔

    گزشتہ مہینے بھارتی وزارت خارجہ نے دو ٹوک کہا کہ معاہدہ معطل ہی رہے گا۔ اس سے آگے بڑھ کر بھارتی وزیر آبی وسائل سی آر پاٹل نے کہا کہ نئی دہلی اس پر کام کر رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کو ایک قطرہ پانی نہ ملے۔

’ایک قطرہ نہ ملے‘، یہ الفاظ کسی جنونی اینکر کے نہیں، بھارتی کابینہ کے ایک وزیر کے ہیں۔  یہی وہ مقام ہے جہاں معاملہ محض آبی تنازع نہیں رہتا۔ جب ایک ریاست جان بوجھ کر دوسرے ملک کی خوراک، زراعت اور انسانی زندگی کو نقصان پہنچانے کے لیے پانی کو سیاسی ہتھیار بنائے تو اسے دنیا بھر میں واٹر ویپنائزیشن یا آبی دہشتگردی کہا جاتاہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ صرف پانی روکنا دہشتگردی نہیں بلکہ اسے سیاسی ہتھیار بنا لینا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

 بھارت عملاً کیا کر رہا، کیا کرنا چاہتا ہے؟

    بھارتی منصوبوں کو تین حصوں میں تقسیم کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔

  پہلا حصہ وہ ہے جو ہو چکا۔ معاہدہ معطل کرتے ہی بھارت نے بگلیہار ڈیم سے چناب کا پانی روکا اور پھر سلال اور بگلیہار کے ذخائر کی فلشنگ کی، یعنی ڈیموں میں جمع مٹی اور گاد نکال کر ان کی گنجائش بڑھائی گئی۔ یہ کام معاہدے کے تحت مخصوص طریقے اور موسم میں، پاکستان کو پیشگی اطلاع دے کر ہونا چاہیے تھا مگر بھارت نے بے موسم، بغیر بتائے کیا۔

    فلشنگ بظاہر تکنیکی عمل ہے مگر اس کا مطلب سمجھیں، بھارت اپنے موجودہ ڈیموں کو زیادہ پانی روکنے کے قابل بنا رہا ہے۔ اسی عرصے میں ڈیٹا کی فراہمی بھی بند کر دی گئی۔ ہمارے انڈس واٹر کمشنر کے مطابق ماہانہ ڈیٹا عرصے سے نہیں مل رہا، چناب کے معاملے پر بھارتی کمشنر کو چار خط لکھے گئے، جواب ایک کا بھی نہیں آیا۔

  انڈین پلاننگ کا دوسرا حصہ وہ ہے جو ہو رہا ہے۔ چناب اور جہلم کے بہاؤ میں اپریل دو ہزار پچیس سے اچانک اور غیر معمولی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ایک موقع پر بھارت نے اچانک اٹھاون ہزار کیوسک سے زائد پانی چناب میں چھوڑ دیا اور پھر ڈیم بھرنے کے لیے بہاؤ تقریباً صفر تک گرا دیا۔ ہمارے کمشنر نے اسے اسٹریٹجک خطرہ قرار دیا اور ان کا یہ جملہ سو فیصد درست ہے کہ ڈیٹا کے پانی کے بہاؤ میں نیچے واقع پاکستان جیسا ملک اندازے لگانے پر مجبور ہے کہ فطرت سے مقابلہ کرے یا اوپر بیٹھے ملک کی کارروائی سے۔

  بھارتی پلاننگ کا تیسرا اور سب سے خطرناک حصہ وہ ہے جو بھارت مستقبل میں کرنے جا رہا ہے۔ خود بھارتی میڈیا کے مطابق چناب کا پانی سرنگ کے ذریعے دریائے بیاس میں منتقل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ بیاس مشرقی دریا ہے جو معاہدے کے تحت مکمل طور پر بھارت کا ہے، یعنی چناب کا پانی ایک بار بیاس میں گیا تو ہمیشہ کے لیے پاکستان کی پہنچ سے نکل جائے گا۔

   یہ پانی روکنا نہیں، پانی چرانا ہے اور ہمارے دفتر خارجہ نے بجا طور پر اسے معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ بھارت مغربی دریاؤں پر نئے منصوبوں کی رفتار بڑھا رہا ہے اور ایسا انفراسٹرکچر بڑھا  رہا ہے جو پاکستان کو الاٹ شدہ پانی کنٹرول کرنے کی کیپسیٹی  رکھتا ہو۔ یاد رہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی نے بھارت کو مغربی دریاؤں پر صرف رن آف دی ریور منصوبوں کی اجازت دی تھی، یعنی بہتے پانی سے بجلی بناؤ اور پانی آگے جانے دیا جائے۔

پاکستان کو نقصان کیا ہو سکتا ہے؟

  چند اعداد ذہن میں رکھیں تو معاملے کی سنگینی کھلتی ہے۔ ہر دس میں سے نو پاکستانی سندھ طاس میں آباد ہیں۔ ہماری نوے فیصد سے زائد فصلیں انہی دریاؤں سے سیراب ہوتی ہیں۔ ملک کے تمام اکیس پن بجلی گھر اسی طاس میں ہیں۔ زراعت معیشت کا چوتھائی حصہ اور دو تہائی افرادی قوت کا روزگار ہے۔

اب اسے کسانوں کے نقطہ نظر سے دیکھیں۔ چناب کا بے ترتیب بہاؤ سب سے پہلے پنجاب کی گندم پر وار کرتا ہے۔ بوائی کے دنوں میں پانی نہ ملے تو فصل بیٹھ جاتی ہے اور جب کھڑی فصل کو ریلے کی ضرورت نہ ہو تب اچانک پانی چھوڑ دیا جائے تو کھیت ڈوب جاتے ہیں۔ لاکھوں ایکڑ کی آبپاشی اس اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو رہی ہے اور کسان کم پیداوار اور بڑھتے قرضوں کی چکی میں پس رہا ہے۔ گندم قومی غذائی تحفظ کی بنیاد ہے، اس پر ضرب دراصل ہر پاکستانی گھر کے دسترخوان پر ضرب ہے۔ پھر بجلی کا معاملہ ہے، دریاؤں کا بہاؤ غیر یقینی ہو تو ڈیمز سے بجلی کی پیداوار بھی غیر یقینی ہو جاتی ہے۔

ایک اور پہلو پر کم لوگوں کی نظر جاتی ہے۔ پانی کم ہو تو صوبوں کے درمیان تقسیم کا جھگڑا بڑھتا ہے۔ سندھ پہلے ہی پنجاب پر زیادہ پانی لینے کا الزام لگاتا رہتا ہے۔ میری رائے میں بھارت کا ایک ہدف یہ بھی ہے کہ پانی گھٹا کر پاکستانی صوبوں کو آپس میں لڑا دیا جائے۔ ہمیں یہ چال سمجھنی چاہیے۔ دشمن کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ وہ چند کیوسک پانی روک لے، بلکہ یہ ہوگی کہ وہ سندھ اور پنجاب کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرے۔

 کیا بھارت واقعی پانی روک سکتا ہے؟

  حقیقت یہ ہے کہ آج کے دن تک بھارت کے پاس وہ ڈیم اور ذخائر موجود ہی نہیں جو سندھ، جہلم اور چناب کا پانی روک سکیں۔ ان تینوں دریاؤں سے پاکستان کو سالانہ ایک سو پینتیس ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے جبکہ بھارت ان پر پونے چار ملین ایکڑ فٹ کے قریب ہی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ اتنے بڑے بہاؤ کو روکنے کے لیے درجنوں بڑے ڈیم چاہئیں جن کی تعمیر میں برسوں لگتے ہیں۔

    امریکی معروف تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس کا تجزیہ بھی یہی ہے کہ قریبی مدت میں بھارت یہ صلاحیت نہیں رکھتا۔ قدرت کا فیصلہ بھی ہمارے حق میں ہے، ان دریاؤں کا بڑا حصہ گلیشیئر پگھلنے سے آتا ہے، ڈھلوان ہماری طرف ہے اور مون سون کے ریلے کسی ڈیم کے قابو میں نہیں آتے۔

تو کیا مطمئن ہو کر بیٹھ جائیں؟ ہرگز نہیں۔ اوپر بیان کردہ منصوبے بتا رہے ہیں کہ اصل خطرہ پانی کی مکمل بندش نہیں، پانی کے وقت سے کھیلنا ہے۔ آسان لفظوں میں اسے یوں سمجھیں کہ بھارت کا ہتھیار نلکا بند کرنا نہیں، نلکے کو جھٹکے دینا ہے۔ اور یاد رکھیں، اگلے پانچ سے دس برسوں میں اگر بھارت ذخیرے کی صلاحیت بڑھانے میں کامیاب ہو گیا تو یہ جھٹکے بندش میں بدل سکتے ہیں۔ اصل معرکہ آج نہیں، آنے والے برسوں کا ہے اور تیاری آج کرنی ہے۔

 پاکستان کے پاس کیا راستے ہیں؟

پہلا محاذ قانونی ہے اور خوشخبری یہ ہے کہ اس محاذ پر پاکستان مسلسل جیت رہا ہے۔ عالمی ثالثی عدالت پہلے قرار دے چکی ہے کہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش نہیں، پھر رواں سال مئی میں اس نے ذخیرے کی حد سے متعلق فیصلے میں پاکستانی مؤقف کی تائید کی۔ خود عالمی بینک کے سربراہ اجے بنگا، جو بھارتی نژاد ہیں، کہہ چکے ہیں کہ معاہدے میں معطلی کی سرے سے کوئی شق موجود ہی نہیں۔ بھارت ان فیصلوں سے انکاری ہے مگر عالمی برادری کے سامنے اس کا چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی دلیل وزنی ہے کہ اگر ایک ایٹمی طاقت عالمی معاہدے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر سرخرو ہو گئی تو دنیا بھر کے آبی معاہدوں کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔ ترکیہ، شام اور عراق کے درمیان دجلہ فرات کا جھگڑا ہو یا مصر اور ایتھوپیا کا دریائے نیل کا تنازع، ہر جگہ پانی کے بہاؤ میں نیچے واقع  ملک یہی سوال پوچھیں گے کہ کیا معاہدے اب کاغذ کے ٹکڑے ہیں؟

    دوسرا محاذ دفاعی ڈیٹرنس کا ہے۔ اس پر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں، مئی دو ہزار پچیس کے ٹکراؤ میں بھارت دیکھ چکا کہ پاکستان کی پہنچ کہاں تک ہے۔ پاکستانی وزیردفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ پانی کے مسئلے پر جنگ تک ہوسکتی ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بھی اس حوالے سے بڑا سخت اور مضبوط موقف لیا ہے۔ سی ایس آئی ایس جیسےعالمی تھنک ٹینک بھی لکھ رہے ہیں کہ اگر بھارت پاکستانی آبی سپلائی سے عملاً کھیلنے لگا تو پاکستان بھارتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر مجبور ہو گا اور دہلی کا جوا الٹا پڑ سکتا ہے۔

   سچ تو مگر یہ ہے کہ اصل جنگ نہ عدالتوں میں لڑی جائے گی نہ میزائلوں سے۔ اصل جنگ سیمنٹ، سریے اور نہروں کی ہے اور یہی تیسرا، سب سے اہم محاذ ہے۔

       اصل حل ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے

بھارت جو کچھ کر رہا ہے اس کا ایک ہی بھرپور، ٹھوس  جواب ہے، پاکستان اپنے گھر کو درست کرے۔ چار کام فوری توجہ مانگتے ہیں۔

  پہلا کام پانی کا ذخیرہ بڑھانا ہے۔ مہمند اور دیامر بھاشا ڈیم دو ہزار اٹھائیس اور دو ہزار انتیس تک مکمل ہوئے تو ہماری گنجائش میں نو ملین ایکڑ فٹ کا اضافہ ہو گا۔ دیامر بھاشا دنیا کے بلند ترین ڈیموں میں ہو گا۔ یہ منصوبے اب قومی سلامتی کے منصوبے ہیں، ان کی تکمیل میں ایک دن کی تاخیر بھی جرم ہے۔اگر بھارت پانی کو ہتھیار بنانا چاہتا ہے تو پاکستان کو نئے بڑے ڈیمز کو اپنی دفاعی ڈھال بنانا ہوگا۔

دوسرا کام ڈیٹا کی خود انحصاری ہے۔ بھارت نے دریاؤں کا ڈیٹا دینا بند کر دیا تو ہمیں اپنا سیٹلائٹ اور ٹیلی میٹری نظام بنانا ہو گا تاکہ چناب میں آنے والے ہر جھٹکے کی پیشگی خبر ہو۔ یہ معلومات اب ہماری آپریشنل ضرورت ہیں۔

    تیسرا اور کڑوا کام اپنے پانی کا حساب ہے۔ ہم دنیا کے ان ملکوں میں ہیں جو فی ایکڑ سب سے زیادہ پانی بہاتے ہیں اور پیداوار سب سے کم لیتے ہیں۔ ہماری کچی نہریں پانی کا بڑا حصہ راستے ہی میں پی جاتی ہیں۔ ہمیں چند ایک کام ہر حال میں کرنے ہوں گے۔ آب پاشی کے جدید طریقے جیسے ڈِرپ اریگیشن ، نہروں کی پختگی، لیزر لیولنگ اور چاول گنے جیسی بہت زیادہ پانی لینے والی فصلوں پر نظرثانی۔

   یہ سب کچھ اتنا پانی بچا سکتا ہے جتنا بھارت اپنی کسی چھیڑ چھاڑ سے روک ہی نہیں سکتا۔ ماہرین کی رائے کے  مطابق صرف نہروں اور کھالوں کو پختہ کرنے سے کالا باغ ڈیم کے ذخیرہ جتنا پانی بچایا جا سکتا ہے۔ سوچیں، جو ملک اپنا آدھا پانی ضائع کرتا ہو، وہ دشمن سے قطرے قطرے کا حساب کس منہ سے مانگے گا؟

      چوتھا کام داخلی آبی انصاف ہے۔ صوبوں کے درمیان انیس سو اکانوے کے آبی معاہدے پر شفاف عملدرآمد ہو تاکہ بھارت کو ہماری صفوں میں دراڑ ڈالنے کا موقع نہ ملے۔ سوال یہ ہے کہ آخر سندھی قوم پرستوں کو پنجاب پر غلط الزام لگانے کا موقعہ ہی کیوں ملے؟ کیوں نہیں اس قدر ٹرانسپرنٹ نظام بنا دیا جاتا کہ انگلی اٹھانے کی کسی کی جرات ہی نہ ہو۔

   منٹو کے افسانے کا کردار کہتا تھا کہ جس نے پانی بند کیا وہ یزید تھا، شاید کوئی اور آئے جو کھولے۔ ہمیں مگر کسی کے کھولنے کا انتظار نہیں کرنا، اپنے حصے کے پانی کی حفاظت خود کرنی ہے، عدالت میں دلیل سے، سرحد پر عزم سے اور اپنی زمین پر ڈیموں اور پختہ نہروں سے۔ دشمن کو غصے سے نہیں، تیاری سے جواب دیا جاتا ہے۔

اللہ ہمارے دریاؤں کو ہمیشہ رواں رکھے اور ہمیں اتنی توفیق دے کہ ہم ان کے ایک ایک قطرے کی قدر کرنا سیکھ لیں، آمین۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp