وزیراعظم شہباز شریف ایران کے دورہ پر روانہ ہوگئے، جہاں وہ ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ دورے کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد، تعاون، امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ وزیراعظم پاکستانی حکومت، عوام اور قیادت کی جانب سے ایرانی قوم کے ساتھ اظہارِ تعزیت اور یکجہتی بھی کریں گے۔
وزیراعظم نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے شہید کے بیٹے اور ایران کے نئے منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ حسین خامنہ ای کو تعزیتی خط بھی ارسال کیا، جبکہ اعلیٰ سطحی رابطوں اور پاکستان کے واضح مؤقف کے ذریعے ایرانی عوام کو یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif departs for one day official visit to Iran (Islamabad, 3 July 2026). pic.twitter.com/NknLcxb7z6
— Prime Minister's Office (@PakPMO) July 3, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے اپنے احترام کا اظہار مختلف مواقع پر کیا۔ ان سے ملاقات کے دوران جوتے اتار کر جانا ایک باوقار روایت اور دینی شخصیت کے شایانِ شان احترام کی علامت قرار دیا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان نے ایران امریکا مفاہمت میں تاریخی کردار ادا کیا، یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ایران پر اسرائیلی جارحیت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے پاکستان کا واضح، اصولی اور دوٹوک مؤقف پیش کیا، جسے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں امن کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
اس دوران پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر کشیدگی میں کمی، امن کے فروغ اور اسرائیل کے جنگی عزائم کو ناکام بنانے کے لیے سفارتی کوششوں میں اپنا کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے باہمی تعاون کو خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کے مثبت، ذمہ دارانہ اور امن پسند کردار کو عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعظم شہباز شریف کا ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد
آیت اللہ علی خامنہ ای کو مسلم اتحاد، فلسطینی عوام کی حمایت، فرقہ واریت کے خاتمے اور عالمی ناانصافی کے خلاف مؤثر آواز قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ قوموں کی حقیقی طاقت جنگ کے بجائے اتحاد، خودمختاری، انصاف اور امن میں مضمر ہے۔
وزیراعظم کے دورۂ ایران کے دوران ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان بھائی چارے، باہمی اعتماد، تعاون، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور دنیا میں امن و خوشحالی کے فروغ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
اس دورے کو اس عزم کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان ایران کے غم میں برابر کا شریک ہے، فلسطین اور کشمیر کے عوام کی حمایت جاری رکھے گا اور خطے سمیت دنیا میں جنگ کے بجائے امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔













