فرانس نے ایک اور شدید گرمی کی لہر کے خدشے کے پیشِ نظر ملک بھر کے اسپتالوں کو 30 ہزار ایئر کنڈیشنرز فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ صرف پیرس کے علاقے کے اسپتالوں میں رواں ہفتے کے اختتام تک قریباً ایک ہزار نئے ایئر کنڈیشنرز پہنچا دیے جائیں گے۔
فرانسیسی نشریاتی ادارے BFMTV کے مطابق پیرس کے اسپتالوں نے حکومتی کھیپ موصول ہونے سے پہلے ہی اضافی ایئر کنڈیشنرز کی خریداری شروع کر دی ہے تاکہ مریضوں اور طبی عملے کو شدید گرمی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
مزید پڑھیں:فرانس میں شدید گرمی سے اموات میں خطرناک اضافہ، مردہ خانوں میں جگہ کم پڑ گئی
پیرس کے سینٹ لوئس اسپتال کے شعبہ ہیمیٹولوجی کے سربراہ ایمانوئل رافو نے کہا کہ دوسری ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے یہ اقدام نہایت ضروری ہے، خاص طور پر اگر مختصر وقفے میں ایک اور شدید گرمی کی لہر آتی ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ گرمی کی شدت سے انسانی جسم متاثر ہوا ہے اور بہت سے مریض اپنے ایک ہی اسپتال قیام کے دوران دوسری ہیٹ ویو کا سامنا کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے شدید گرمی کے دوران بعض اسپتالوں کے کمروں کا درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، جس کے بعد پیرس کے سرکاری اسپتالوں نے ہنگامی بنیادوں پر مزید کولنگ یونٹس خریدنے کا فیصلہ کیا۔
پیرس پبلک ہاسپیٹل نیٹ ورک (AP-HP) کا کہنا ہے کہ 2025 کے آخر سے 2026 کے وسط تک 800 ایئر کنڈیشنرز تعینات یا خریدے جا چکے ہیں، جبکہ صرف ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں مزید ایک ہزار یونٹس حاصل کیے گئے ہیں۔ ادارے نے امید ظاہر کی ہے کہ قومی سطح پر جاری حکومتی پروگرام کے تحت ان اخراجات کی واپسی بھی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:فرانس میں چھوٹا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، پائلٹ سمیت 11 افراد ہلاک
فرانس میں حالیہ دنوں کے دوران کئی علاقوں میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جس کے باعث کولنگ آلات کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔














