عراق اور اردن نے بصرہ عقبہ اسٹریٹجک آئل پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑے مشترکہ توانائی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا اور خطے میں تیل کی ترسیل کے متبادل راستوں کو مضبوط بنانا ہے۔
اس بات کا اعلان عراقی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کیا گیا۔ یہ اتفاق رائے جمعرات کو اس وقت سامنے آیا جب عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اردن کے وزیر صنعت، تجارت اور سپلائی یارب القضاۃ کی قیادت میں آنے والے وفد سے بغداد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں منصوبے کی تازہ پیش رفت اور اس کی رفتار تیز کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ 1700 کلومیٹر (1056 میل) طویل اس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے، جس کے ذریعے یومیہ 25 لاکھ بیرل تک تیل کی ترسیل ممکن ہوگی۔ ملاقات میں صنعت، ٹرانسپورٹ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم علی الزیدی نے اردن کو عراق کا اہم اسٹریٹجک پارٹنر قرار دیا، جبکہ اردنی وزیر یارب القضاۃ نے کہا کہ عمان عراق کے اقتصادی اصلاحاتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
پائپ لائن کی فزیکل تعمیر کا آغاز گزشتہ سال ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد عراق کے تیل کی برآمدات کے راستوں کو متنوع بنانا ہے تاکہ خلیجی بندرگاہوں پر انحصار کم کیا جا سکے، جبکہ اردن کو رعایتی نرخوں پر تیل کی فراہمی اور ٹرانزٹ آمدن حاصل ہوگی۔
عراقی کابینہ نے 11 جنوری 2022 کو اس منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت عراق کے جنوبی شہر بصرہ سے تیل اردن کی بندرگاہ عقبہ تک پہنچایا جانا ہے جو بحیرہ احمر پر واقع ہے۔
عراقی حکومت نے اس منصوبے کے لیے 2024 کے بجٹ میں بھی فنڈز مختص کیے ہیں۔ تاہم عراق میں بعض حلقوں کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت بھی کی گئی ہے، جن کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔














