ویکسین کی مقامی تیاری میں انڈونیشیا پاکستان کا ’کلیدی شراکت دار بن گیا، مصطفیٰ کمال

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور انڈونیشیا نے صحت کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھانے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہ اہم فیصلہ جنیوا میں منعقدہ ایک بین الاقوامی تقریب کے موقع پر پاکستان کے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور ان کے انڈونیشین ہم منصب کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات میں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، طبی شعبے میں اصلاحات اور دونوں ممالک کے عوام کو صحت کی جدید سہولیات کی فراہمی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ویکسین سازی اور انڈونیشیا کی ٹیکنالوجی کا حصول

ملاقات کے دوران وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے انڈونیشین ہم منصب کو پاکستان میں مقامی طور پر ویکسین سازی کے شعبے میں ہونے والی حالیہ پیشرفت اور حکومتی اقدامات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

انہوں نے پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دیرینہ اور مضبوط برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں مستقبل کی طبی ضروریات کو پورا کرنے اور وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری ناگزیر ہو چکی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے انڈونیشیا ہمارا ’لیڈنگ پارٹنر‘ یعنی کلیدی شراکت دار ہے۔‘

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان فارماسیوٹیکل اور بائیو ٹیکنالوجی کے میدان میں انڈونیشیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی، مہارت اور وسیع تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا خواہشمند ہے تاکہ ملک کو اس شعبے میں خود کفیل بنایا جا سکے۔

انڈونیشیا کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی

اس موقع پر انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انڈونیشیا پاکستان میں ویکسین کی تیاری، تحقیق اور مقامی ماہرین کی استعداد کار (کپیسٹی بلڈنگ) کو بڑھانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل اور تکنیکی تعاون فراہم کرے گا۔‘

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے باعث ملک میں ادویات اور فارمولا دودھ کی قلت کا خدشہ

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دونوں مسلم ممالک صحت کے شعبے میں موجود چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں گے اور دونوں ممالک کے عوام کو جدید، معیاری، محفوظ اور مؤثر طبی سہولیات کی سستی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

واضح رہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین صحت کے شعبے میں یہ تعاون ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ہیلتھ سیکیورٹی اور سستی ادویات کی فراہمی کو بنیادی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔

جنیوا میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین کی سطح پر جلد ہی ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، جو ویکسین مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدوں کو حتمی شکل دیں گے، جس سے نہ صرف پاکستان کی درآمدی ویکسینز پر انحصار کم ہوگا بلکہ ملکی زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا کا بڑا فیصلہ، امریکی فٹبالر بالوگن کا ریڈ کارڈ واپس، صدر ٹرمپ کا خصوصی اظہار تشکر

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دے کر 7 ویں بارعالمی چیمپیئن کا تاج اپنے سر سجا لیا

خاتون کو بچاتے ہوئے گولی لگنے سے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم کا قاتل گرفتار کرلیا گیا

آئی فون کو ٹکر دینے کی تیاری، سام سنگ گلیکسی ایس 27 میں زبردست فیچر متعارف

کل 6 جولائی سے ملک بھر میں موسلا دھار بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ویڈیو

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘

’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟