صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ نے بی آر ٹی ییلو لائن منصوبے میں ساڑھے 8 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے مقدمے میں گرفتار ملزم ضمیر عباسی کو عدالتی ریمانڈ پر کراچی سینٹرل جیل بھیج دیا۔
جبکہ ان کی درخواستِ ضمانت پر سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 11 جولائی تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر شیر زمان نے ملزم کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں رہی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سندھ نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش کے دوران ملزم سے 128 سوالات کیے جا چکے ہیں، اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ درکار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کو عالمی معیار کا شہر بنانے کا عزم، سندھ حکومت کی ایف ڈبلیو او سے شراکت داری
عدالتی استفسار پر مشترکہ تفتیشی ٹیم کے رکن نے بتایا کہ کنٹریکٹ کے تحت ادائیگی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بینک گارنٹی کے بغیر غیر محفوظ ادائیگیاں کی گئیں۔
عدالت نے سوال کیا کہ کیا تفتیش مقررہ 90 روز میں مکمل ہو سکے گی؟ اس پر مشترکہ تفتیشی ٹیم کے رکن نے بتایا کہ کوشش ہے کہ تفتیش مقررہ مدت سے پہلے مکمل کر لی جائے۔
سماعت کے دوران ملزم ضمیر عباسی نے عدالت سے کہا کہ اس مقدمے میں اب تک 6 تفتیشی افسران تبدیل ہو چکے ہیں۔
جس پر عدالت نے تفتیشی افسر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ’آپ تفتیشی افسر ہیں، اب آپ بھی کچھ کریں گے۔‘
مزید پڑھیں: کراچی میں جرمن قونصلیٹ کیوں بند کیا گیا، کب تک بند رہے گا؟
جج نے ملزم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر انہیں جو سوال نامہ دیا گیا، وہ کسی خاص مقصد کا نہیں لگتا۔ اس پر ضمیر عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پر بینک گارنٹی کے بغیر ادائیگی کا الزام لگایا جا رہا ہے، حالانکہ منصوبے کے کنسلٹنٹ کے کردار سے سب واقف ہیں۔
ملزم نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ حکومت کو ایک روپے کا بھی نقصان نہیں ہوا۔ ’اگر نقصان ثابت ہو جائے تو میں سر جھکا لوں گا اور جو سزا دی جائے قبول کروں گا۔‘
عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ اگر فنڈز درست استعمال ہوئے تھے تو ورلڈ بینک نے اپنے خط میں فنڈز کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق خدشات کیوں ظاہر کیے۔
اس پر ضمیر عباسی نے بتایا کہ ان کے دور میں ہر 3 ماہ بعد ورلڈ بینک کا مشن منصوبے کا جائزہ لینے آتا تھا اور وہ خود وفد کو منصوبے کی سائٹ کا دورہ کراتے تھے۔
مزید پڑھیں: کراچی کی تباہ حالی پر اہم اجلاس، صدر زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کو محسن نقوی کی مثال کیوں دی؟
ان کے مطابق ورلڈ بینک نے منصوبے کے لیے فنڈز کی فراہمی میں اضافہ بھی کیا تھا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر تمام امور قانون کے مطابق انجام دیے گئے تھے تو پھر یہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی۔
بعد ازاں جج نے ملزم سے کہا: ’آپ کو لگتا ہے کہ آپ ہی ورلڈ بینک والوں کو ہینڈل کر سکتے ہیں، اتنا اعتماد بھی اچھا نہیں ہوتا۔‘
عدالت نے ملزم ضمیر عباسی کی درخواستِ ضمانت پر 11 جولائی کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں عدالتی ریمانڈ پر سینٹرل جیل بھیج دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر 12 جولائی کو ملزم کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے۔














