ججز کی غیر تسلی بخش کارکردگی پر ریفرنس بھیجا جا سکتا ہے، وزیر قانون

ہفتہ 4 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ہائیکورٹس میں ججز کی تعیناتی کے لیے پہلی مرتبہ باقاعدہ انٹرویوز کیے جائیں گے تاکہ تقرریوں کا عمل مکمل طور پر میرٹ پر استوار ہو۔

یہ بھی پڑھیں: پائیدار اور بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے قومی ڈائیلاگ ضروری، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

انہوں نے واضح کیا کہ ججز کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور غیر تسلی بخش کارکردگی کی صورت میں متعلقہ کمیٹی ریفرنس تیار کرکے جوڈیشل کمیشن کو بھجوا سکے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر جج کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش بھی کی جا سکتی ہے۔

وہ لاہور میں پنجاب بار کونسل کے زیر اہتمام بار ووکیشنل ٹریننگ پروگرام مکمل کرنے والے وکلا میں اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تمام ججز قابل احترام ہیں، تاہم یہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے، اس لیے جب تنخواہیں اور مراعات یکساں ہیں تو کارکردگی بھی یکساں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں احتساب اور کارکردگی کا مؤثر نظام وقت کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ججز کی تعیناتی کا عمل شفاف، میرٹ پر مبنی اور آئین و قانون کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم میں تکینکی غلطی نہیں، قومی اسمبلی نے اچھی تجاویز دیں جس پر غور ہورہا ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

ان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کی حکمرانی ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے اور تمام اداروں کو اسی اصول کے تحت کام کرنا چاہیے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر سپریم کورٹ سمیت مختلف بارز نے تعاون کیا، جبکہ 28ویں آئینی ترمیم فوری طور پر نہیں لائی جا رہی، تاہم تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اسے متعارف کرایا جائے گا۔

انہوں نے وکلا کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کہا کہ اس سلسلے میں پنجاب کے وزیر صحت سے بات ہو چکی ہے اور وکلا کو جلد صحت کارڈ کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: مل بیٹھ کر بات کرنا اور سیاست کو انتقام سے نکالنا ہوگا: وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

اس کے علاوہ انہوں نے بار ووکیشنل کورس کے لیے 20 ملین روپے کی گرانٹ دینے کا بھی اعلان کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے بار ووکیشنل ٹریننگ پروگرام مکمل کرنے والے وکلا کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت مضبوط عدالتی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اپنے خطاب کے دوران وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ان پر ہمیشہ یہ ’ٹھپہ‘ لگا رہا ہے کہ ان کے اندر کا وکیل کبھی نہیں نکلتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp