پاکستان کا دوٹوک مؤقف، سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں ہو سکتا، عالمی حمایت کے لیے مہم تیز

اتوار 5 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اعلان اور آبی منصوبوں پر پیشرفت کے باوجود پاکستان نے اس معاہدے کے تحفظ کے لیے سفارتی، قانونی اور سیاسی محاذ پر اپنی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ نہ تو یکطرفہ طور پر معطل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ختم، جبکہ پاکستان بھارتی اقدامات پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے یہ مقدمہ پیش کر رہا ہے کہ پانی کو سیاسی یا جنگی ہتھیار بنانا بین الاقوامی قانون، علاقائی امن اور کروڑوں انسانوں کی غذائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

2 جولائی کی پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیاکہ سندھ طاس معاہدے کو کسی بھی قانون کے تحت معطل یا کالعدم نہیں کیا جاسکتا، یہ معاہدہ برقرار ہے اور پاکستان صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ بھارت کی ہر عملی پیشرفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

اُنہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے بجٹ مختص کرنے اور ٹینڈر جاری کرنے جیسے اقدامات پاکستان کے نوٹس میں ہیں، اور اگر ان منصوبوں پر زمینی سطح پر مزید پیشرفت ہوئی تو پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: ’سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا‘، پاکستان کے مؤقف کو عالمی پذیرائی

انہوں نے واضح کیاکہ پاکستان اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور اسے اعلیٰ ترین سیاسی اور سفارتی سطح پر مسلسل اٹھایا جا رہا ہے۔

30 جون کو اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی سیمینار میں پاکستان کی سیاسی قیادت، قانونی ماہرین، بین الاقوامی اسکالرز، سفارتی نمائندوں اور سول سوسائٹی نے متفقہ طور پر انڈس واٹر ٹریٹی کی مکمل پاسداری پر زور دیا۔ پانی کو سیاسی یا جنگی ہتھیار بنانے کی مخالفت کی۔ تمام تنازعات کو یکطرفہ اقدامات کے بجائے قانونی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

شرکا نے خبردار کیاکہ اگر کسی ملک کو اس کے جائز حصے کے پانی سے محروم کیا گیا تو اس کے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان کی کثیر الجہتی پالیسی

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ 6 دہائیوں پر محیط انڈس واٹر ٹریٹی کو نہ تو یکطرفہ طور پر معطل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے معاہدے کومعطل کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی، یکطرفہ اور مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسے دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتا ہے۔

2 جولائی کو دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ سے یہ بھی واضح ہوا کہ پاکستان کی حکمت عملی صرف ردعمل تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع سفارتی، قانونی اور بیانیہ جاتی مہم پر مبنی ہے۔ ایک طرف بھارت زمینی حقائق تبدیل کرنے کے لیے بجٹ، ٹینڈرز اور آبی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، تو دوسری جانب پاکستان عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ پانی کو ہتھیار بنانا نہ صرف انڈس واٹر ٹریٹی بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور علاقائی امن کے لیے بھی ایک خطرناک مثال ثابت ہو سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اب اس معاملے کو صرف پاک بھارت تنازع کے بجائے عالمی آبی سلامتی اور بین الاقوامی قانون کے ایک اہم امتحان کے طور پر پیش کررہا ہے۔

پہلگام واقعے کے بعد بھارت کے اقدامات

22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے پاکستان کے خلاف متعدد اقدامات کا اعلان کیا، جن میں سب سے اہم 1960 کے انڈس واٹر ٹریٹی کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ تھا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ بھارت نے اس معاہدے کو عملی طور پر غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی، حالانکہ اس معاہدے میں یکطرفہ معطلی یا خاتمے کی کوئی واضح شق موجود نہیں۔

اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک نے مختلف محاذوں پر اپنی حکمتِ عملی ترتیب دی۔ بھارت نے انتظامی، تکنیکی اور مالی اقدامات کے ذریعے پاکستان کے حصے کے دریاؤں پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش تیز کی، جبکہ پاکستان نے قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورمز پر اپنا مقدمہ مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رکھی۔

بھارتی اقدامات

معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے بعد بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر اور پنجاب میں کئی آبی منصوبوں کی رفتار بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا مقصد پاکستان کے حصے کے دریائی پانی جس میں سندھ، جہلم اور چناب شامل ہیں کو زیادہ سے زیادہ بھارتی استعمال میں لانا تھا۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے مختلف آبی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز ایلوکیٹ کیے جن کا مقصد نئے بیراجوں کی تعمیر، پانی کے ذخائر کو بڑھانا، نہری نظام کو وسیع کرنا شامل تھا۔

اس سلسلے میں بھارتی اداروں نے متعدد تعمیراتی اور انجینیئرنگ ٹینڈرز جاری کیے۔ ان اقدامات سے واضح ہوا کہ بھارت محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں بلکہ طویل المدتی انفراسٹرکچر پر بھی سرمایہ کاری کررہا ہے۔

اس کے علاوہ بھارت نے پہلے سے جاری ہائیڈروپاور منصوبوں پر کام کی رفتار میں اِضافہ کیا جن میں راتلے، پاکل دل، کیرو اور لوئر کلنائی شامل ہیں۔

پاکستان کے جوابی اقدامات

پاکستان نے بھارتی اقدامات کی اپنی تیز تر سفارتکاری کے ذریعے سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان نے امریکا، چین، سعودی عرب، ترکیہ، یورپی ممالک، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی شراکت داروں کو بریفنگ دی کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔

پاکستان نے مختلف سفارتی فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ پانی کے معاملے کو جنوبی ایشیا کے امن سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

پاکستان نے عالمی بینک کے تحت جاری ثالثی عدالت اور نیوٹرل ایکسپرٹس دونوں عمل میں اپنی شرکت جاری رکھی تاکہ قانونی بنیاد مزید مضبوط ہو۔ پاکستانی قیادت نے واضح کیاکہ پانی پاکستان کی معیشت، زراعت اور غذائی سلامتی کا بنیادی ستون ہے، لہٰذا اس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

پاکستانی سفارت خانوں، تھنک ٹینکس اور میڈیا کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ 24 کروڑ افراد کی غذائی سلامتی اس معاہدے سے وابستہ ہے اور پانی کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان میں بھی آبی ذخائر، ڈیموں، نہری نظام کی بہتری، پانی کے ضیاع میں کمی اور واٹر گورننس پر نئی بحث تیز ہوئی۔ اگرچہ ان منصوبوں کی رفتار ابھی بھی مطلوبہ سطح سے کم سمجھی جاتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق مستقبل کی آبی سلامتی کے لیے داخلی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

کیا بھارت فوری طور پر پانی روک سکتا ہے؟

زیادہ تر آبی ماہرین کے مطابق جواب نہیں ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی دریاؤں پر بھارت کے پاس بڑے ذخائر محدود ہیں، موجودہ انفراسٹرکچر پورا بہاؤ روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور دریاؤں کا رُخ موڑنے کے لیے کئی سال اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور انجینیئرنگ مہارت درکار ہے۔

موجود مرحلے میں بھارت زیادہ سے زیادہ پانی کے بہاؤ میں وقتی ردوبدل، محدود ذخیرہ یا موسمی اعتبار سے کوئی انتظام کر سکتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیاکہ بھارت پاکستان کو بنجر بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک پاکستان کو اس نہج پر نہیں لے جا سکتا، تاہم انہوں نے اس خدشے کا اعتراف کیاکہ پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی ردوبدل، مثلاً بارشوں کے موسم میں اچانک زیادہ پانی چھوڑنا یا ضرورت کے وقت پانی روکنے کی کوشش، ایک غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے جسے عالمی برادری بھی نوٹ کررہی ہے

پاکستان کے لیے اصل چیلنج

آبی ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے صرف بھارتی اقدامات ہی مسئلہ نہیں بلکہ داخلی کمزوریاں بھی اتنی ہی اہم ہیں، جن میں پانی کا ضیاع، پرانا نہری نظام، کم ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، موسمیاتی تبدیلیاں اور آبادی میں اضافہ ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ خطرے میں؟ پاکستان کے دریاؤں پر بھارت کے متنازع ڈیموں کی کہانی

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی داخلی اصلاحات تیز نہیں کرتا تو مستقبل میں آبی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، چاہے بھارت کوئی بڑا منصوبہ مکمل کرے یا نہ کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp