جدید دور میں دم توڑتا فریسکو آرٹ، چند کاریگر روایت بچانے میں مصروف

اتوار 5 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’فریسکو‘ پاکستان کی روایتی تعمیراتی وراثت کا ایک منفرد اور نمایاں فن ہے، جو صدیوں سے مقبروں، محلات اور دیگر تاریخی عمارتوں کی دیواروں کی آرائش کا اہم حصہ رہا ہے۔ یہ قدیم فن نہ صرف عمارتوں کے حسن میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ملک کی ثقافتی اور فنی شناخت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

اس فن کی بنیاد گہری دستکاری، مہارت اور برسوں کی مسلسل مشق پر استوار ہے۔ کسی بھی کاریگر کو فریسکو کے فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے طویل عرصے تک تربیت اور عملی تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔

جدید تعمیراتی رجحانات اور بدلتے ہوئے طرزِ تعمیر کے باعث یہ روایتی فن رفتہ رفتہ معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں محمد نواز جیسے چند ماہر کاریگر اس قیمتی ثقافتی ورثے کو زندہ رکھنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فریسکو کی تیاری کا پورا عمل نہایت باریک بینی، مہارت اور سخت نظم و ضبط کا متقاضی ہوتا ہے۔ سب سے پہلے مطلوبہ ڈیزائن کاغذ پر تیار کیا جاتا ہے، جس کے بعد اس کے تمام خاکوں پر سوئی کی مدد سے باریک سوراخ کیے جاتے ہیں۔

پھر دیوار پر سفید پلاسٹر کی ایک تہہ چڑھائی جاتی ہے تاکہ ایک ہموار اور یکساں سطح تیار ہو، جو آرٹ ورک کی بنیاد بنتی ہے۔ اس کے بعد سوراخ شدہ ڈیزائن کو دیوار پر رکھ کر ململ کے کپڑے میں لپٹے ہوئے باریک کوئلے کے پاؤڈر سے اس پر ہلکے ہلکے تھپکے لگائے جاتے ہیں، جس سے نقش دیوار پر منتقل ہو جاتا ہے۔

آخر میں اسی منتقل شدہ خاکے کے مطابق رنگ بھر کر مکمل فریسکو آرٹ ورک تخلیق کیا جاتا ہے۔ مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp