وفاقی ٹیکس محتسب نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکس دہندگان کا مالیاتی ڈیٹا اور خفیہ ٹیکس معلومات کسی بھی غیر مجاز شخص کے سامنے ظاہر نہ کی جائیں۔
وفاقی ٹیکس محتسب ظفر حجازی نے ٹیکس دہندگان کی مالیاتی معلومات اور ٹیکس ریکارڈ کی رازداری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکم دیا ہے کہ اس نوعیت کی معلومات تک کسی کو رسائی نہ دی جائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اہم حکم گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 6 ٹیکس دہندگان کی جانب سے دائر نظرثانی/تصحیح درخواست پر جاری کیا گیا، جس میں ایف بی آر کے ایک سینیئر افسر پر قانون کی خلاف ورزی اور مالیاتی ڈیٹا کے تحفظ میں کوتاہی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: محمد ظفر الحق حجازی 4 سال کے لیے وفاقی ٹیکس محتسب تعینات
درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ پیش ہوئے، جبکہ محکمہ کی نمائندگی وقاص حنیف (کمشنر ان لینڈ ریونیو) اور حسن مبروُر (ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو) نے کی۔
یہ معاملہ وفاقی ٹیکس محتسب کے 11 جون 2026 کے ایک سابقہ فیصلے سے متعلق ہے، جس میں واضح طور پر قرار دیا گیا تھا کہ درخواست گزاروں کی خفیہ ٹیکس معلومات کو دوسرے ٹیکس دہندگان کے اسیسمنٹ آرڈرز میں شامل یا نقل نہیں کیا جانا چاہیے تھا اور ایسی معلومات صرف سرکاری مقاصد کے لیے مکمل رازداری کے ساتھ استعمال ہونی چاہییں۔
تاہم اس فیصلے میں اس ہدایت پر عمل درآمد کے لیے ضروری احکامات شامل نہیں کیے گئے تھے، جس کے باعث درخواست گزاروں نے تصحیح کی درخواست دائر کی۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر نے کویتی سفارتکار کو ’نان فائلر‘ قرار دے کر ٹیکس کٹوتی کردی
دونوں فریقین کا مؤقف سننے کے بعد وفاقی ٹیکس محتسب نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کا اعتراض درست ہے اور سابقہ فیصلے میں عمل درآمد سے متعلق ہدایات شامل نہ ہونا ریکارڈ پر موجود ایک غیر ارادی غلطی تھی۔
محتسب کے مطابق اس کی تصحیح سے نہ تو پہلے سے دیے گئے فیصلے میں کوئی تبدیلی آتی ہے اور نہ ہی اس کے دائرہ کار میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ پہلے سے دی گئی قانونی رعایت کو مؤثر بنایا جاتا ہے۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر ٹیکس حکام کسی مواد کو سرکاری ریکارڈ یا اپیل کے مقاصد کے لیے محفوظ رکھنا ضروری سمجھیں تو وہ اسے محکمانہ خفیہ ریکارڈ کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سائبر کرائم: ریٹائرڈ فوجیوں کے اکاؤنٹس کے ذریعہ ٹیکس فراڈ کا انکشاف
وفاقی ٹیکس محتسب نے چیف کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ سابقہ فیصلے میں نشاندہی کیے گئے تمام اسیسمنٹ آرڈرز کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق ایسے اقدامات کریں جن سے درخواست گزاروں کی خفیہ ٹیکس معلومات، جو دوسرے ٹیکس دہندگان کے اسیسمنٹ آرڈرز میں شامل ہو چکی ہیں، مزید کسی غیر مجاز شخص کے لیے قابل رسائی یا قابل مشاہدہ نہ رہیں۔
حکم میں مزید کہا گیا کہ اس عمل کے دوران محکمہ ایسا قانونی طریقہ اختیار کرے جس سے ایک طرف سرکاری اسیسمنٹ ریکارڈ کی سالمیت برقرار رہے اور دوسری طرف ٹیکس دہندگان کی معلومات کی رازداری بھی مکمل طور پر محفوظ رہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ مواد کو محکمانہ ریکارڈ یا اپیل کے مقاصد کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔
مزید پڑھیں: نجی کمپنی کو ٹیکس ریفنڈ پر سماعت کا موقع دیا جائے : صدر نے ایف بی آر کی اپیل مسترد کردی
وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 216 کے تحت مالیاتی ڈیٹا اور ٹیکس گوشواروں کی رازداری محض ایک رسمی تقاضا نہیں بلکہ ٹیکس حکام پر عائد ایک قانونی ذمہ داری ہے۔
‘۔۔۔اور اگر محکمہ کسی جائز مقصد کے لیے اسیسمنٹ سے متعلق مواد محفوظ رکھنا چاہے تو یہ عمل ٹیکس دہندگان کے حقِ رازداری کو متاثر کیے بغیر انجام دیا جانا چاہیے۔’














