سپریم کورٹ نے بلدیہ فیکٹری سانحہ کیس میں تحریری اور تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے 264 افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے 2 ملزمان، محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو بری کردیا۔
39 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ملک شہزاد احمد نے تحریر کیا، جبکہ جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد نے بھی فیصلے سے اتفاق کیا۔
مزید پڑھیں: بلدیہ فیکٹری سے سانحہ گل پلازہ تک، انتظامات میں بہتری نہ آسکی
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
عدالت کے مطابق ڈھائی سال بعد سامنے آنے والی نئی کہانی قابلِ اعتماد نہیں، جبکہ تاخیر سے سامنے آنے والے بیانات پر بھی انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی اعترافِ جرم آزاد شواہد سے ثابت نہیں ہو سکا، جبکہ فرانزک شواہد سے بھی کیمیکل کے استعمال کا دعویٰ ثابت نہیں ہوا۔
سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ سانحے میں زخمی ہونے والے 34 گواہوں میں سے کسی ایک نے بھی ملزمان کے خلاف بیان نہیں دیا۔
عدالت کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہ کرنا بھی استغاثہ کے مقدمے کو کمزور کرتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیاکہ صرف قیاس آرائیوں اور عمومی الزامات کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی، جبکہ شک کا فائدہ دینا ملزم کا قانونی حق ہے۔
مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری: رحمان بھولا اور زبیر چریا کی پھانسی کی سزا برقرار
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف عدالتی ریمارکس حذف کرنے کا بھی حکم دیا اور سندھ ہائیکورٹ اور انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔














