قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اور حکومت خیبر پختونخوا کے محتسب سیکرٹریٹ کے درمیان خواتین کے حقوق کے فروغ، خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ، پارلیمانی نظام میں خواتین کی مؤثر شمولیت، مقامِ کار پر خواتین کو ہراسگی سے تحفظِ کے ایکٹ 2010 کے مؤثر نفاذ، کام کی جگہ پر تحفظ اور پارلیمانی روابط سے متعلق امور میں ادارہ جاتی تعاون، باہمی رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرلیے گئے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: خواتین کے حقِ وراثت سے متعلق تاریخی فیصلہ، 71 سال بعد 2 بہنوں کا آبائی جائیداد میں حصہ بحال
مفاہمتی یادداشت کے تحت معلومات کے تبادلے، استعدادِ کار میں اضافے، مشاورت اور تکنیکی معاونت کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔
معاہدے میں اس امر کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ دونوں اداروں کے آئینی دائرۂ اختیار، ادارہ جاتی خودمختاری اور پارلیمانی مراعات کا مکمل احترام برقرار رکھا جائے گا۔
معاہدے کے مطابق ویمن پارلیمانی کاکس کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ عوامی آگاہی میں اضافہ، خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ، پارلیمانی عمل میں خواتین کی مؤثر شرکت، مقامِ کار پر خواتین کو ہراسگی سے تحفظِ کے ایکٹ 2010 کے مؤثر نفاذ، قانون سازی پر مؤثر عمل درآمد اور باہمی مشاورت و مکالمے کے ذریعے مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر کہا گیا کہ یہ مفاہمتی یادداشت دونوں اداروں کے اس مشترکہ عزم کی عکاس ہے کہ مؤثر اور مربوط کوششوں کے ذریعے خواتین کے حقوق، خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ، پارلیمانی نظام میں خواتین کی شمولیت کے فروغ، مقامِ کار پر خواتین کو ہراسگی سے تحفظِ کے ایکٹ 2010 کے مؤثر نفاذ، بہتر طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
قائم مقام سیکریٹری قومی اسمبلی سعید احمد اور محتسب حکومتِ خیبر پختونخوا بیرسٹر رباب مہدی نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
مزید پڑھیں: خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر فضا علی کو برطانوی پارلیمنٹ میں ایوارڈ سے نواز دیاگیا
تقریب میں اسپیشل سیکریٹری برائے خصوصی اقدامات سید شمعون ہاشمی سمیت قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔














