ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کے ثمرات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، شزہ فاطمہ

منگل 7 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جاری ’اے آئی فار گڈ‘ گلوبل سمٹ کے دوسرے روز وفاقی وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے لیے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع عالمی گورننس فریم ورک کی حمایت کرتا ہے۔

اپنے خطاب میں شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ موجودہ دور میں سب سے بڑا امتحان مصنوعی ذہانت کی مؤثر گورننس ہے، جبکہ دنیا میں موجود “اے آئی ڈیوائیڈ” کو ختم کرنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

مزید پڑھیں:انٹرنیٹ کا ستیاناس کیوں کر دیا؟، ’یہ بات آئی ٹی منسٹر شزہ فاطمہ بھی نہیں جانتیں‘

انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ترقی اور اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ترقی پذیر ممالک کا بنیادی حق ہے، اس لیے انہیں اس شعبے کے ثمرات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

وزیرِ آئی ٹی نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک جامع، منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کا خواہاں ہے، جو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات اور ترجیحات کو بھی مساوی اہمیت دے۔

شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان کو “گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس” کا بانی رکن ہونے پر فخر ہے اور وہ عالمی سطح پر ایک ایسے نظام کی حمایت کرتا ہے جو زیادہ جامع، نمائندہ اور شمولیتی ہو۔

مزید پڑھیں:انٹرنیٹ بند کیا نہ سست، اسپیڈ وی پی این کے زیادہ استعمال سے متاثر ہوئی، شزہ فاطمہ کا دعویٰ

انہوں نے جنیوا میں سمٹ کے کامیاب انعقاد پر چین، چین کے وزیرِ آئی ٹی اور سفیر جیا گائیڈ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

وفاقی وزیر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی پذیر ممالک کی مؤثر شمولیت یقینی بنائی جائے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد دنیا کے تمام خطوں تک مساوی طور پر پہنچ سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp