امریکا کے ایران پر  نئے فضائی حملے ، متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

.

.

امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 3 تجارتی جہازوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں ایران کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق یہ کارروائی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ اور ایران کو ’بھاری قیمت چکانے‘ پر مجبور کرنے کے لیے کی گئی، جبکہ ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران میں کئی مقامات پر حملوں کی اطلاع دی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف تازہ کارروائیوں میں 80 سے زائد اہداف کو جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس اور بحری میزائل صلاحیتوں کو ہدف بنایا گیا۔

سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار تنصیبات اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کی صلاحیتوں پر حملے کیے۔

امریکی فوجی بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے اندر اور اس کے اطراف موجود پاسداران انقلاب ایران کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ عالمی تجارتی راستے سے گزرنے والی بحری تجارت کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدگی، آئل ٹینکر نشانہ بن گیا

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی ایران کے شہر سیریک میں واقع طاہروی (Taheroui) گھاٹ کے علاقے میں کم از کم چھ میزائل یا دیگر ہتھیار آ کر گرے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان کئی روز تک جاری رہنے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد یہ ایران کے خلاف پہلی معلوم امریکی فوجی کارروائی ہے۔

دوسری طرف ’الجزیرہ‘ نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے خبر دی  ہے کہ جنوبی ایران کے اہم تزویراتی علاقوں میں متعدد دھماکے ہوئے ہیں، جن میں بندرگاہی شہر سیریک، جزیرہ قشم، بندر عباس اور جزیرہ خارک شامل ہیں۔ ایرانی حکام نے حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

’زیادہ تر حملوں‘ کا نشانہ شہری علاقے بنے، جبکہ سیریک کی تجارتی بندرگاہ پر ایک حملے کے نتیجے میں گولوں کے ٹکڑے لگنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔

ایران کا بحرین و کویت میں  85 امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان

ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں موجود متعدد امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی پر جاری بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی جارحیت کے ابتدائی جواب کے طور پر مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کیا گیا، جس میں دونوں ممالک میں قائم 85 اہم امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

پاسداران انقلاب کے مطابق حملوں میں بحرین میں قائم امریکی بحری بیڑے ففتھ فلیٹ کے اڈے اور کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی فوجی حکام نے کہا کہ یہ کارروائی امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور اسلام آباد معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی ہے۔ ایران کے مطابق امریکا نے اس سے قبل ہرمزگان اور ماہشہر کے ساحلی علاقوں میں فوجی اڈوں اور غیر فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کیے تھے۔

کویت کا میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنے کا اعلان

دوسری جانب کویتی فوج نے کہا ہے کہ ملک کو ’دشمن کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں‘ کا سامنا ہے اور ان کے جواب میں دفاعی کارروائیاں جاری ہیں۔

کویتی فوج کے بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

کویتی حکام نے تصدیق کی کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سنائی دینے والے دھماکوں کی آوازیں دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو کامیابی سے روکنے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔

ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ایران کے صوبہ بوشہر میں ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔  پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے بوشہر کے علاقے خورموج کے قریب امریکی ڈرون کو نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے ایران سے معاہدہ ہوگا یا پھر ہم اپنا کام مکمل کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بار پھر دھمکی

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے۔ ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ صرف وہی ہوگا جسے ایران نے مقرر کیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے کی سلامتی پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

تاہم امریکی حکام کی جانب سے ایرانی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

برطانیہ میں سالمونیلا پھیلنے کا خدشہ، علامات، علاج اور بچاؤ کے طریقے

امریکی یونیورسٹیوں کی غیرملکی طلبہ کو 15 ستمبر سے قبل امریکا واپس پہنچنے کی ہدایت

معاشی تنہائی یا عالمی معیشت میں شمولیت، امریکا کا ایران کو سخت پیغام

اسلام آباد کے قریب ہزار سال پرانے گکھڑ دور کے تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے

ویڈیو

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار