امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یا تو امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہوگا یا پھر امریکا اپنا کام مکمل کرے گا۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ’یا تو ہم معاہدہ کریں گے یا پھر ہم اپنا کام مکمل کریں گے، اور یہ کام مکمل کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں ہوگا۔ تاہم میں معاہدے کو ترجیح دوں گا کیونکہ میں 9 کروڑ 10 لاکھ لوگوں کو متاثر نہیں کرنا چاہتا۔‘
مزید پڑھیں: امریکا ایران معاہدہ سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ترک صدر کا اسرائیل کو انتباہ
انہوں نے دعویٰ کیاکہ ہم ایک گھنٹے میں ایران کے پل تباہ کر سکتے ہیں، ان کی توانائی کی فراہمی کا نظام مفلوج کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اس وقت پیسہ بھی نہیں ہے اور ہم نے انہیں کوئی رقم نہیں دی۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کسی نمایاں پیشرفت کے بغیر ختم ہوئے۔
دونوں ممالک کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کا مقصد امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سفارت کاری کے لیے ماحول سازگار بنانا ہے، جس کے لیے پاکستان بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔
مزید پڑھیں: یورپی یونین کی امریکا ایران معاہدے کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف
پاکستان نے 47 برس بعد دو متحارب ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا، جس کے بعد جنگ بندی ممکن ہوئی اور ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کیے گئے۔














