ایران کے سابق صدارتی نمائندہ برائے افغانستان حسن کاظمی قمی نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں افغانستان کی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے سربراہ احمد مسعود اور دیگر طالبان مخالف رہنماؤں کو دعوت دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی پالیسی افغانستان کے تمام عوام سے روابط برقرار رکھنے کی ہے، چاہے اقتدار میں کوئی بھی سیاسی دھڑا موجود ہو۔
حسن کاظمی قمی، جو پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے رکن بھی ہیں، نے نیوز ویب سائٹ ’آئی آر اے ایف نیوز‘ سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان کے عوام کی نمائندگی مختلف سیاسی قوتیں کرتی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت صرف معاشرے کے ایک حصے کی نمائندہ ہے، جبکہ دیگر طبقات حکومت سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور افغانستان کے عوام کے تعلقات مشترکہ ثقافتی، تاریخی، مذہبی اور اخلاقی رشتوں پر استوار ہیں، اس لیے انہیں محض سیاسی زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
قمی کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، طالبان مخالف افغان رہنماؤں کی تہران میں موجودگی کو مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے طالبان نے افغان عوام کو دہشتگردوں کے لیے قربان کر دیا، سربراہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ احمد مسعود
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 48 برس کے دوران افغانستان میں حکومتیں اور سیاسی تحریکیں تبدیل ہوتی رہیں، لیکن ایران نے ہمیشہ تمام افغان عوام کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے بقول آج افغانستان کے ایک حصے کے نمائندے اقتدار میں ہیں جبکہ دوسرا حصہ اقتدار سے باہر ہے، اور ایران کا رویہ پورے افغان معاشرے کے ساتھ یکساں ہے۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے حسن کاظمی قمی نے کہا کہ گزشتہ 5 دہائیوں کے دوران مختلف نسلی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے لاکھوں افغان شہری ایران میں مقیم رہے ہیں، جن کا ایرانی عوام نے ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ طالبان مخالف رہنماؤں کو تہران مدعو کرنا ایران کی اسی جامع پالیسی کا حصہ ہے اور اسے صرف ایک سیاسی اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں جاں بحق ہونے والے سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں منعقدہ تقریبات کے پہلے روز تہران میں طالبان حکومت کے اعلیٰ حکام اور ان کے مخالف رہنماؤں کی بیک وقت موجودگی نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے افغان طالبان کا ایران میں ہونے والے علاقائی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ
تقریب میں طالبان کے وفد کی قیادت نائب وزیراعظم عبدالغنی برادر اور وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کی، جبکہ دوسری جانب طالبان مخالف وفد کی قیادت احمد مسعود اور محمد محقق کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے احمد مسعود اور محمد محقق کا سرکاری سطح پر استقبال کیے جانے پر طالبان کے متعدد حامیوں نے شدید ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا۔














