خلا کا سفر انسانی جسم کے لیے ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ ہڈیاں کمزور ہونا، پٹھوں کا سکڑنا اور جسم میں تبدیلیاں تو سائنسدانوں کے لیے معروف ہیں لیکن اب نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خلا میں کششِ ثقل کی عدم موجودگی انسانی دماغ کو بھی نمایاں طور پر تبدیل کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مستقبل میں خلا میں ادویات کی تیاری معمول بن سکتی ہے، ماہرین کی پیشگوئی
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اربوں سال کے ارتقائی سفر کے بعد انسانی جسم زمین کی کشش ثقل کے مطابق ڈھل چکا ہے اسی لیے جب خلائی دور کا آغاز ہوا تو سائنسدانوں کو خدشہ تھا کہ خلا میں جانے کے بعد انسانی جسم کس طرح ردعمل دے گا۔ تاہم جانوروں اور بعد ازاں انسانوں پر ہونے والے تجربات سے ثابت ہوا کہ انسان نہ صرف خلا میں زندہ رہ سکتا ہے بلکہ وہاں کے ماحول سے خود کو ڈھال بھی سکتا ہے۔
یورپی خلائی ادارے کے خلا باز لوکا پرمیتانو کے مطابق خلا میں چند ہفتے گزارنے کے بعد جسم میں واضح تبدیلیاں محسوس ہوتی ہیں، ٹانگیں پتلی ہونے لگتی ہیں جبکہ چہرہ زیادہ گول دکھائی دینے لگتا ہے کیونکہ کشش ثقل نہ ہونے کی وجہ سے جسمانی مائعات اوپری حصے میں جمع ہونے لگتے ہیں۔
تاہم سائنسدانوں کے مطابق سب سے اہم سوال یہ ہے کہ طویل عرصے تک خلا میں رہنے سے انسانی دماغ کس طرح متاثر ہوتا ہے۔
یونیورسٹی آف لندن کے بیرک بیک کالج کے سائنسدانوں نے 15 مختلف دماغی امیجنگ تحقیقات کا جائزہ لیا جن میں تقریباً 377 افراد شامل تھے۔ ان میں خلا بازوں کے ساتھ وہ رضاکار بھی شامل تھے جن پر زمین پر خلا جیسے حالات پیدا کرکے تجربات کیے گئے۔
تحقیق کے مطابق کشش ثقل کی عدم موجودگی میں انسانی دماغ خود کو نئے ماحول کے مطابق ڈھالنے کے لیے جسمانی اور فعالی تبدیلیوں سے گزرتا ہے۔ دماغ کے وہ حصے جو حرکت توازن اور جسمانی احساس کو کنٹرول کرتے ہیں خلا میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور بیرک بیک کالج کی پروفیسر ایلیسا رافائیلا فیرے کا کہنا ہے کہ دماغ میں یہ تبدیلیاں دراصل اس کی حیرت انگیز لچک کو ظاہر کرتی ہیں کیونکہ وہ کششِ ثقل کے بغیر ماحول میں کام کرنے کے لیے خود کو دوبارہ ترتیب دیتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق زمین پر ہمارا دماغ ہر حرکت کے دوران کشش ثقل کو مدنظر رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر کافی کا کپ اٹھاتے وقت دماغ خودکار طور پر جسم کے پٹھوں کو اسی حساب سے حرکت دیتا ہے لیکن خلا میں یہ نظام تبدیل ہو جاتا ہے۔
یہ تبدیلی خلا بازوں کے لیے مسئلہ اس وقت بن سکتی ہے جب انہیں دوبارہ کسی ایسے مقام پر اترنا ہو جہاں کشش ثقل موجود ہو جیسے چاند یا مریخ۔
مزید پڑھیے: خلائی ٹوائلٹ صاف کرنے والی خاتون نے مریخ مشن کی قیادت سنبھال لی، اس مقام تک رسائی کیسے ہوئی؟
سائنسدانوں نے اپالو مشن کے خلا بازوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چاند کی سطح پر چلتے وقت ان کے توازن اور حرکات میں مشکلات نظر آئیں کیونکہ ان کا دماغ زمین کی کشش ثقل کے بجائے ایک مختلف ماحول کے مطابق ڈھل چکا تھا۔
مریخ کے مستقبل کے مشن میں یہ مسئلہ مزید اہم ہو سکتا ہے۔ اگر خلا باز تقریباً 8 ماہ تک خلا میں رہنے کے بعد مریخ پہنچتے ہیں تو وہاں کی کشش ثقل زمین کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہونے کے باعث انہیں اترنے اور ابتدائی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل کے طویل خلائی سفر کے لیے صرف طاقتور راکٹ کافی نہیں ہوں گے بلکہ خلا بازوں کے دماغ اور جسم کو نئے ماحول کے لیے تیار کرنا بھی ضروری ہوگا۔
سائنسدان خلا میں مصنوعی کششِ ثقل پیدا کرنے کے لیے بڑے گھومنے والے خلائی جہاز یا سینٹری فیوج ٹیکنالوجی پر بھی غور کر رہے ہیں تاہم اس منصوبے کی لاگت بہت زیادہ ہے۔
محققین اب دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرنے کے لیے نئی تکنیکوں پر کام کر رہے ہیں جو کششِ ثقل کو محسوس کرتے ہیں، تاکہ خلا بازوں کو طویل مشنز کے دوران بہتر انداز میں ڈھالا جا سکے۔
مزید پڑھیں: ناسا نے اپنی گرتی ہوئی خلائی دوربین کو بچانے کے لیے ریسکیو مشن لانچ کردیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا کا مطالعہ صرف مستقبل کے خلائی سفر کے لیے اہم نہیں بلکہ اس سے زمین پر انسانی دماغ کے کام کرنے کے طریقہ کار کو سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔














