پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے پاکستان اور امریکا کے درمیان براہِ راست تجارتی پروازوں کی بحالی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطے بحال ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اہم اقدام سے دونوں ممالک کے مابین سیاحت، تعلیمی روابط، کھیلوں کی سفارت کاری اور پیشہ ورانہ تبادلوں کو ایک نیا فروغ ملے گا۔
مستقبل قریب میں فضائی رابطوں کی امید
’پاکستان آبزرور‘ کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے نیٹلی اے بیکر نے کہا کہ ’مجھے قوی امید ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور امریکا کے درمیان براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع ہوں گی، جس سے طلبہ، محققین، سیاحوں اور مختلف شعبوں کے ماہرین کے تبادلوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔‘
یہ بھی پڑھیں:سلیکٹ یو ایس اے انویسٹمنٹ سمٹ میں پاکستان کی بھرپور شرکت، نیٹلی بیکر کا پاک امریکا معاشی تعاون کے فروغ پر زور
نیٹلی بیکر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے مابین سفارتی روابط میں تیزی آ رہی ہے اور دونوں فریقین مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔
پروازوں کی معطلی کا پس منظر
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے مابین براہِ راست پروازیں سال 2020 سے معطل ہیں۔ یہ پابندی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے کراچی میں پیش آنے والے ایئربس اے-320 حادثے کے بعد عائد کی گئی تھی، جس میں تقریباً 100 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بعد ازاں تحقیقات میں حادثے کی ذمہ داری پائلٹس اور ایئر ٹریفک کنٹرول کی انسانی غلطیوں پر عائد کی گئی تھی، جبکہ پی آئی اے کے متعدد پائلٹس کے لائسنس مشکوک ہونے کے انکشافات بھی سامنے آئے تھے۔
اگرچہ گزشتہ سال یورپ اور برطانیہ نے پابندیاں ختم کرکے پی آئی اے کو پروازوں کی اجازت دے دی ہے، تاہم امریکا کے لیے یہ پابندی تاحال برقرار ہے۔
پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششیں تیز
پاکستان نے بھی امریکا کے ساتھ براہِ راست فضائی رابطوں کی بحالی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ رواں سال مئی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا پال کپور سے ملاقات کی تھی، جس میں اس معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں:امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کا کراچی کا دورہ، تجارت و سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر زور
ملاقات کے دوران وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان براہِ راست پروازیں جلد از جلد بحال ہوں۔‘
پاکستان کو حاصل ہونے والے فوائد
ہوا بازی کے ماہرین کے مطابق براہِ راست پروازوں کی بحالی سے جہاں کاروباری شخصیات، طلبہ، محققین اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سفر انتہائی آسان اور آرام دہ ہو جائے گا، وہی اس اقدام سے پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے کی ساکھ بین الاقوامی سطح پر بہتر ہوگی اور ملکی ایئرلائنز پر عالمی اعتماد بحال ہونے میں مدد ملے گی۔














