پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ شان مسعود کو ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ ان کی بیٹنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی، مطلوبہ پیشرفت نہ ہونے اور حکمت عملی کی خامیوں کے باعث کیا گیا۔
عاقب جاوید نے سابق کپتان سلمان بٹ کے ساتھ ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی توقع ہوتی ہے کہ کپتان نہ صرف نتائج دے بلکہ ٹیم کو مسلسل بہتری کی جانب بھی لے کرجائے۔
یہ بھی پڑھیں: شان مسعود کو بابراعظم کا نائب کپتان مقرر کر دیا گیا
شان مسعود تقریباً 3 سال تک پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان رہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 16 ٹیسٹ میچ کھیلے، جن میں 4 میں کامیابی حاصل کی جبکہ 12 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اب انہیں ہٹا کر بابراعظم کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ اگرچہ شان مسعود کے دور میں ایک اچھا مرحلہ بھی آیا، تاہم مجموعی طور پر ٹیم درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں بھی کئی حکمت عملی کی خامیاں سامنے آئیں، جنہیں بورڈ نے تسلیم کیا، تاہم یہ محسوس کیا گیا کہ قیادت میں تبدیلی ضروری ہے۔
عاقب جاوید کے مطابق بورڈ نے خاص طور پر میچ کے دوران کیے جانے والے فیصلوں کا جائزہ لیا، جن میں ٹاس، ڈی آر ایس کا استعمال، باؤلرز کی تبدیلی اور حریف ٹیم کے آخری بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کی حکمت عملی شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: شان مسعود کی کپتانی کا معاملہ پھر زیر بحث، پاکستان ٹیسٹ ٹیم قیادت کے بحران سے دوچار
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہر ٹیم کے وسائل محدود ہوسکتے ہیں، لیکن کپتان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دستیاب کھلاڑیوں سے بہترین کارکردگی حاصل کرے۔
عاقب جاوید نے واضح کیا کہ شان مسعود کی بیٹنگ قابلِ قبول تھی، تاہم قیادت میں تبدیلی کا مقصد مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے ٹیم کو بہتر سمت دینا اور مسلسل سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرنا تھا۔













