امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا سے امریکی سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار گراہم پلاٹنر نے جنسی زیادتی کے الزامات کے بعد اپنی انتخابی مہم ختم کرتے ہوئے سینیٹ کی دوڑ سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔
گراہم پلاٹنر نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں اپنی انتخابی مہم معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا انتہائی مشکل فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ بعض لوگ ان کے اس فیصلے کو اعترافِ جرم سمجھیں گے، تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہوں نے کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی عمل نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ کو جنسی زیادتی اور ہتک عزت کے الزام میں 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم
انہوں نے کہا ’میں چاہتا ہوں کہ تمام حقائق سامنے آئیں، کیونکہ مجھ پر عائد کیے گئے الزامات جھوٹے ہیں۔‘
گراہم پلاٹنر کو انتخابی مہم کے دوران پہلے بھی مختلف تنازعات کا سامنا رہا، جن میں ماضی میں سوشل میڈیا پر کیے گئے متنازع تبصرے، نازی نظریات سے منسوب ٹیٹو اور سابقہ تعلقات سے متعلق منفی الزامات شامل تھے۔ تاہم ان کی انتخابی مہم کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب ان کی سابقہ ساتھی جینی ریسیکوٹ نے 2021 کے ایک واقعے کے حوالے سے ان پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا۔ اس الزام کے منظرعام پر آنے کے بعد پارٹی رہنماؤں اور حامیوں کی جانب سے ان پر انتخابی دوڑ چھوڑنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ایپسٹین کی جنسی اسمگلنگ میں شریک تھے یا نہیں، کچا چٹھا کھلنے کو تیار
ڈیموکریٹک پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایسے سنگین الزامات کی موجودگی میں پلاٹنر کی امیدوار برقرار رہنا پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے بعد انہوں نے اپنی انتخابی مہم ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ پلاٹنر نے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کریں گے، تاہم ان کی دستبرداری کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کو مقررہ انتخابی شیڈول کے مطابق 21 جولائی تک سینیٹ کی نشست کے لیے نیا امیدوار نامزد کرنا ہوگا۔
امریکی سیاسی مبصرین کے مطابق پلاٹنر کی دستبرداری سے نارتھ کیرولائنا میں آئندہ سینیٹ انتخاب مزید دلچسپ ہو گیا ہے، کیونکہ یہ نشست آئندہ انتخابات میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹیوں کے درمیان اہم مقابلوں میں شمار کی جا رہی ہے۔














