طیارہ حادثے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت: کے 2 ایئرویز کے دفاتر انویسٹیگیشن ٹیم کے حوالے، کن پہلوؤں کی جانچ ہوگی؟

جمعرات 9 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں پیش آنے والے کے 2 ایئرویز کے کارگو طیارہ حادثے کی تحقیقات اہم مرحلے میں داخل ہو گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: کے ٹو ایئرویز کے بدقسمت طیارے کی سروس ہسٹری کیا ہے؟

حادثے کے فوری بعد سیل کیے گئے ایئرلائن کے 4 دفاتر اب باقاعدہ طور پر بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹیگیشن کے حوالے کر دیے گئے ہیں جہاں سے اس کی ٹیم حادثے سے متعلق اہم شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لے گی۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے گزشتہ شب طیارے کے لاپتا ہونے کی اطلاع ملتے ہی احتیاطی اقدام کے طور پر کے 2 ایئرویز کے دفاتر کو سیل کر دیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ ریکارڈ میں رد و بدل نہ ہو سکے۔ اب انہی دفاتر تک تحقیقاتی ٹیم کو مکمل رسائی دے دی گئی ہے تاکہ حادثے کی وجوہات کا غیر جانبدارانہ اور جامع انداز میں تعین کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق 11 رکنی تحقیقاتی ٹیم جس کی سربراہی ڈائریکٹر ایئر کموڈور احسن کر رہے ہیں کراچی پہنچ چکی ہے۔

ٹیم سب سے پہلے طیارے کے آپریشنل ریکارڈ، مینٹیننس لاگز، فلائٹ دستاویزات، عملے کی ڈیوٹی ریکارڈ اور دیگر تکنیکی معلومات کا تفصیلی جائزہ لے گی اور یہی ریکارڈ اس بات کا تعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا کہ آیا حادثہ کسی فنی خرابی، آپریشنل غلطی یا کسی اور وجہ سے پیش آیا۔

مزید پڑھیے: پاک بحریہ نے اورماڑہ کے مشرق میں ڈوبتے کارگو جہاز کے عملے کو بحفاظت بچا لیا

تحقیقات کے دوران اب تک تحویل میں لیے گئے ریکارڈ کی ابتدائی رپورٹ بھی وزارت دفاع کو بھجوا دی گئی ہے جبکہ آئندہ چند روز میں مزید شواہد اکٹھے کیے جائیں گے۔

 

ماہرین کے مطابق کسی بھی فضائی حادثے کی تحقیقات میں طیارے کے ملبے، تکنیکی ریکارڈ، موسم کی صورتحال، فضائی رابطوں اور عملے کی سرگرمیوں سمیت متعدد پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے اس لیے حتمی رپورٹ آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ٹرمینل بلڈنگ کے تیسرے فلور پر کے 2 ایئرویز کے مجموعی طور پر 5 دفاتر موجود ہیں۔ ان میں سے 4 دفاتر تحقیقات کے لیے بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن کے حوالے کیے گئے ہیں جبکہ 5واں دفتر جہاں ایچ آر اور روزمرہ کے انتظامی امور انجام دیے جاتے ہیں بدستور ایئرلائن کے زیر استعمال رہے گا تاکہ ادارے کے معمول کے دفتری معاملات متاثر نہ ہوں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ حادثے کی اصل وجہ کیا تھی اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے کن حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ فی الحال تمام متعلقہ ادارے شواہد اکٹھے کرنے اور حقائق سامنے لانے کے عمل میں مصروف ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیپال: سیلاب کے بعد لوٹ مار، بہہ جانے والی بینک سیف سے لاکھوں روپے برآمد، 29 افراد گرفتار

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

روس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’آئی سی بی ایم‘ کا کامیاب تجربہ کرلیا

’کیا سنی دیول کو مسلمان کے کردار میں نہیں دیکھ سکتے؟‘، ’بٹوارا 1947‘ کی ناکامی پر شبانہ اعظمی حیران

لاہور میں طویل دھرنے کا عندیہ، ’اٹھانے کی کوشش کی تو اپنا شوق پورا کرلیں‘، حافظ نعیم

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں