کے ٹو ایئرویز کے بدقسمت طیارے کی سروس ہسٹری کیا ہے؟

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کے ٹو ایئرویز پاکستان کی ایک نجی کارگو ایئرلائن ہے، جس کا ہیڈ کوارٹر کراچی میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر واقع ہے، یہ کمپنی بنیادی طور پر مئی 2018 میں ایئرلائن چارٹر لائسنس کے تحت قائم کی گئی تھی، تاہم باقاعدہ طور پر اس کی رجسٹریشن 2019 میں مکمل ہوئی تھی۔

آپریشنز کا آغاز

کے ٹو ایئرویز نے ابتدائی طور پر مسافر بردار ایئرلائن بننے کی منصوبہ بندی کی تھی، لیکن بعد میں حکمت عملی تبدیل کر کے اسے خالصتاً کارگو سروس میں تبدیل کر دیا گیا، ایئرلائن کو اپنا ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ 20 دسمبر 2024 کو ملا جس کے ایک ہفتے بعد کراچی سے لاہور کے لیے اپنی پہلی پرواز سے باقاعدہ آپریشنز کا آغاز کیا۔

یہ بھی پڑھیں: شارجہ سے کراچی آنیوالا کارگو طیارہ سمندر میں گر کر تباہ، 2 پائلٹ سمیت 5 افراد جاں بحق

چیف ایگزیکٹو آفیسر طارق راجہ کی سربراہی میں کے ٹو ایئرویز ملک کے اندر کارگو کی ترسیل کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی کارگو سپلائی چین کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے، کمپنی کے بین الاقوامی روٹس میں متحدہ عرب امارات، چین اور ازبکستان شامل ہیں، جبکہ ملک کے اندر کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے درمیان کارگو کی ترسیل اس کی اہم خدمات کا حصہ رہی ہے۔

طیارے کی تفصیلات

حادثے کا شکار ہونے والا بدقسمت طیارے کی رجسٹریشن AP-BOI تھی، جو ایک بوئنگ 737-40 طیارہ تھا، جسے مسافر طیارے سے کارگو میں تبدیل کیا گیا تھا۔ یہ طیارہ کافی تجربہ کار تھا، جس نے 1999 میں روس کی ایئرلائن ایروفلوٹ سے بطور مسافر طیارہ اپنا فضائی سفر شروع کیا۔

بعد میں انڈونیشیا کی گارودا ایئرلائن میں رہا، 2012 میں اسے کارگو طیارے میں تبدیل کیا گیا اور بالآخر جولائی 2024 میں یہ کے ٹو ایئرویز کے بیڑے کا حصہ بنا۔

فراہم کردہ خدمات

کے ٹو ایئرویز بنیادی طور پر کمرشل کارگو کی ترسیل کرتی ہے، جس میں مخصوص درجہ حرارت پر ادویات کی سمیت دیگر درجہ حرارت سے حساسیت رکھنے والی غذائی اشیا جیسے لائیو اسٹاک، پھل اور سبزیوں بھی شامل ہیں۔

پاکستان  کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی دیگر ممالک میں ترسیل کے علاوہ کوریئر میل کی بکنگ بھی ایئرلائن کی خدمات کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

پاکستان نے مدت پوری ہونے سے قبل 47 کھرب روپے سے زائد قرض واپس کردیا، مشیر خزانہ

شاہراہوں کی بحالی کے لیے کلیئرنس آپریشن، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید، متعدد زخمی

مولانا فضل الرحمان کا فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں سے متعلق بیان، تنازع کیوں کھڑا ہوا؟

عالمی سطح پر خواتین کرکٹ کی شاندار ترقی، ٹیلنٹ کے باوجود پاکستان کیوں پیچھے؟

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟