چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن نے خلا اور زمین پر مشتمل ایک ایسا مشترکہ نظام بنانے کا اعلان کیا ہے جو زمین کے قریب گھومنے والے خطرناک سیارچوں کا قبل از وقت پتا لگائے گا۔
چینی حکام نے اگرچہ اس منصوبے کی زیادہ تفصیلات عام نہیں کیں، لیکن سائنسدانوں کے مطابق اب تک زمین کے گرد ایسے 40ہزار سے زائد خلائی پتھر ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور روس چاند پر ایٹمی بجلی گھر بنائیں گے
ان میں سے 1 کلومیٹر یا اس سے بڑے سائز کے 95فیصد سیارچوں کا سراغ لگایا جاچکا ہے، جو زمین پر عالمی تباہی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم، 140 میٹر سائز کے چھوٹے لیکن خطرناک سیارچوں میں سے ابھی تک صرف 45فیصد ہی دریافت ہوسکے ہیں، جس کی وجہ سے یہ نیا نظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس منصوبے کے اہم سائنسدان کے مطابق، اگرچہ فی الحال کوئی خلائی پتھر زمین سے ٹکرانے کے راستے پر نہیں ہے، لیکن خلا میں اب بھی بہت سے ایسے پوشیدہ خطرات موجود ہیں جن کا سراغ لگانا باقی ہے۔
چین کا یہ نیا نظام زمین پر نصب کی جانے والی طاقتور دوربینوں اور خلا میں موجود مصنوعی سیاروں کے ایک نیٹ ورک پر مشتمل ہوگا، جو خاص طور پر سورج کی سمت سے آنے والے خطرات پر نظر رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے لانگ مارچ-8 اے راکٹ کے ذریعے نئے سیٹلائٹس خلا میں بھیج دیے
یہ سمت زمین پر موجود دوربینوں کے لیے ایک ایسا اندھا موڑ ہے جہاں سورج کی تیز چمک کی وجہ سے سیارچے نظر نہیں آتے، جیسا کہ سن 2013 میں روس پر گرنے والے شہابِ ثاقب کے وقت ہوا تھا جو زمین کے بہت قریب آنے تک پوشیدہ رہا تھا۔
چین کے خلائی پروگرام کے چیف ڈیزائنر کے ایک حالیہ تحقیقی مقالے کے مطابق، اس خلائی نظام کے لیے 4 مختلف مداروں پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں زمین اور سورج کے درمیان موجود مخصوص مقامات شامل ہیں تاکہ ہر زاویے سے آنے والے خطرے کو دیکھا جا سکے۔
اس منصوبے کے بنیادی ماڈل میں زمین کے اسٹیشنوں کے ساتھ خلا میں 1 مصنوعی سیارہ بھیجا جائے گا، جبکہ بڑے منصوبے میں چاروں مداروں میں مصنوعی سیاروں کا جال بچھا دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان خلا میں جانے کو تیار، سپارکو نے مشن کی تیاری کے لیے 2 خلا باز چین بھیج دیے
اس نظام کے ساتھ ساتھ، چین سن 2027 میں امریکی خلائی ادارے کے ایک مشہور تجربے کی طرز پر اپنا تجربہ بھی کرنے جا رہا ہے، جس میں زمین سے کروڑوں کلومیٹر دور ایک سیارچے سے خلائی جہاز ٹکرا کر اس کا راستہ بدلنے کی صلاحیت کو جانچا جائے گا۔














