امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے، جنگ کے سائے میں بھی مذاکرات کا دروازہ بند نہیں

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

7 اور 8 جولائی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر بڑھنے والی فوجی کشیدگی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کہ ’مذاکرات ختم ہو چکے ہیں‘ نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔ خلیج اور آبنائے ہرمز میں عسکری سرگرمیوں میں اضافہ، فضائی حملوں، جوابی کارروائیوں اور دونوں جانب سے سخت بیانات نے خطے کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

اگرچہ بظاہر واشنگٹن اور تہران ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں تاہم سفارتی اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مکمل جنگ کسی بھی فریق کی اولین ترجیح نہیں۔ فوجی تناؤ کے باوجود پسِ پردہ سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اب بھی مذاکرات کا خواہاں ہے، جبکہ ایرانی قیادت نے سخت ردعمل کے باوجود سفارتکاری کے دروازے مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان نہیں کیا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کشیدگی کے ساتھ ساتھ بات چیت کی گنجائش بھی بدستور موجود ہے۔

امریکا کیا کہتا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مفاہمتی عمل اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں عالمی جہازرانی میں رکاوٹیں برقرار رکھتا ہے تو امریکا مزید سخت فوجی اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔

اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایران کے تقریباً 90 اہداف جن میں زیادہ تر فوجی تنصیبات شامل ہیں، نشانہ بنائے جا چکے ہیں جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر خلیجی ممالک میں امریکی مفادات اور اہداف پر حملے کیے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ کے بیانات کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ سخت لب و لہجے کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ ہو تو امریکا بات چیت کے دروازے بند نہیں کر رہا۔

مبصرین کے مطابق یہ مؤقف ٹرمپ کی سفارتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ فوجی دباؤ ڈال کر مذاکرات کی میز پر بہتر پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایران کا کیا مؤقف ہے؟

ایران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے متعدد بار کہا ہے کہ اگر امریکا دھمکیوں اور فوجی دباؤ کی پالیسی جاری رکھتا ہے تو تہران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جسے وہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھتا ہو۔

تاہم باقر قالیباف نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر امریکا اپنے سابقہ وعدوں اور مفاہمتوں پر عمل کرے تو مذاکرات کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران کمزور نہیں بلکہ مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا مؤقف نسبتاً زیادہ سفارتی دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے بارہا کہا ہے کہ ایران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا تاہم کسی بھی نئے معاہدے کی بنیاد باہمی اعتماد، پابندیوں میں حقیقی نرمی اور امریکی وعدوں کی عملی پاسداری ہونی چاہیے۔

عباس عراقچی کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران جنگ کے بجائے ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جس میں ایران کی خودمختاری اور سلامتی سے متعلق خدشات کو تسلیم کیا جائے۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی مسلسل یہی پیغام دے رہے ہیں کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور قومی سلامتی پر کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔

کیا پاکستان کا کردار بڑھ گیا ہے؟

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ موجودہ بحران کا واحد پائیدار حل مذاکرات اور سفارت کاری ہیں۔

گزشتہ روز دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ تنازع کا دوبارہ بھڑک اٹھنا کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہو۔

بیان میں کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے مسلسل رابطے، مذاکرات اور فعال سفارت کاری کا کوئی متبادل موجود نہیں۔

پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں پر یہ بھی زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں کیونکہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے اور اس سے باہر باہمی افہام و تفہیم، احترامِ باہمی اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد فراہم کرتی ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں اپنا مثبت، متوازن اور تعمیری کردار جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

فریقین کے بیانات کیا ظاہر کرتے ہیں؟

اگر امریکا، ایران اور پاکستان کے حالیہ بیانات کو مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک دلچسپ تصویر سامنے آتی ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ دباؤ بھی برقرار رہے گا اور مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رہے گا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ مزاحمت جاری رہے گی، لیکن عزت اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات بھی قابلِ قبول ہیں۔ جبکہ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں اور سفارت کاری ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔

اسی لیے موجودہ کشیدگی کو فوری طور پر مکمل جنگ کا پیش خیمہ قرار دینا شاید قبل از وقت ہوگا۔ زیادہ امکان یہی دکھائی دیتا ہے کہ آئندہ دنوں میں ایک جانب محدود فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی جبکہ دوسری جانب پسِ پردہ سفارتی رابطے اور مذاکراتی کوششیں بھی جاری رہیں گی۔ تاہم اس پورے بحران میں سب سے بڑی رکاوٹ بدستور باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔

جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہےِ تجزیہ نگار ولی نصر

ایرانی نژاد امریکی تجزیہ نگار ولی نصر کے مطابق ایران کے لیے دوبارہ جنگ کی طرف بڑھنے کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اب بتدریج ایک سراب بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

ان کے مطابق تہران میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکا ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ کم کرنا، لبنان میں ایران کی پوزیشن کو کمزور کرنا اور خطے میں اپنی طاقت دوبارہ مستحکم کرنا چاہتا ہے تاکہ ایران پر مزید دباؤ ڈالا جا سکے یا بالآخر ایک مرتبہ پھر جنگ کی راہ اختیار کی جا سکے۔

پاکستان اور قطر کشیدگی روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے، سفارتکار عبدالباسط

پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے انقرہ میں واضح کیا ہے کہ ان کے نزدیک ایران کے ساتھ جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے۔ تاہم عبدالباسط کے مطابق انہیں یقین ہے کہ پاکستان اور قطر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کریں گے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر پہلے ہی تہران کی قیادت سے رابطہ کر چکے ہیں تاکہ کشیدگی میں مزید اضافے کو روکا جا سکے اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خوابوں کا تعاقب مہنگا پڑ گیا، سوئٹزرلینڈ میں کروڑوں کی نوکری چھوڑنے والا نوجوان پچھتانے لگا

’شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن‘ یہ راز تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے، رانا ثنا اللہ خان

سالگرہ کے دن موت کا تحفہ: پولیس اہلکار نے اہلیہ کو چوراہے پر قتل کر دیا

ماجد ستی قتل کیس: فرخ کھوکھر سمیت 3 ملزمان کو عمر قید کی سزا

صدر زرداری کی فرانس کے قومی دن پر صدر میکرون اور فرانسیسی عوام کو مبارکباد

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم