اعداد و شمار کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) 2008 میں 34 ارب سے شروع ہوا اور اس کا واحد مقصد غربت کو کم کرنا اور غریب کو راحت کا احساس دلانا تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اب یہ سوال اٹھنے شروع ہوگئے ہیں کہ اب 838 ارب کی لاگت تک پہنچنے والا یہ منصوبہ کیا اپنے مقصد کو حاصل کر بھی رہا ہے یا نہیں کیونکہ 2008 کے مقابلہ میں آج غربت کی شرح کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔
حالیہ بجٹ 26-2025 میں وفاقی حکومت کی جانب سے بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ وفاقی حکومت کا ترقیاتی بجٹ 1000 ارب کا ہے۔ یعنی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا حجم وفاقی ترقیاتی بجٹ سے تھوڑا سا کم ہے۔ یعنی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ ترقیاتی بجٹ کا 84 فیصد ہے۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ جو سڑکوں، ڈیموں، تعلیم اور صحت پر خرچ ہوتا ہے اُس سے تھوڑا سا کم بجٹ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مد میں رکھا گیا ہے۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف دونوں ’بی آئی ایس پی‘ کو پاکستان کا مؤثر’سوشل سیفٹی نیٹ‘ قرار دیتے ہیں، لیکن وہ بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ پروگرام غربت میں وقتی ریلیف دیتا ہے، جبکہ پائیدار غربت کے خاتمے کے لیے روزگار، تعلیم، انسانی سرمایہ اور معاشی اصلاحات ضروری ہیں۔
پاکستان میں بعض معاشی ماہرین کہتے ہیں ’بی آئی ایس پی‘ کے لیے مختص رقم کو پیداوای معیشت میں لگا کر لوگوں کی غربت دور کی جائے نہ کہ کیش ریلیف کے ذریعے سے۔
’بی آئی ایس پی‘ پر سیاسی اِختلافِ رائے
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی اُمور رانا ثنا اللہ نے 4 جون کو ایک بیان دیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا مصرف لوگوں کو بھکاری بنانے کے سوا کچھ نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے تحت رجسٹرڈ افراد کے اعداد و شمار درست نہیں، ہر 3 ماہ کے بعد 13 سے 17 ہزار روپے دینے سے غربت دور نہیں ہوتی اور اِس رقم کا استعمال ایسے منصوبوں پر ہونا چاہیے جہاں سے لوگوں کو روزگار میسر آ سکے۔
رانا ثنااللہ کے اِس بیان پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا یہ پروگرام لوگوں کو بھکاری بنا نہیں رہا بھکاری بننے سے بچا رہا ہے۔ اُنہوں نے رانا ثنا اللہ کے بیان کو مستحق خاندانوں کی توہین قرار دیا اور معافی کا مطالبہ بھی کیا۔
گزشتہ سال سیلاب متاثرین کی اِمداد کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی میں اختلافات شدید ہو گئے تھے جب پیپلز پارٹی ’بی آئی ایس پی‘ کے ذریعے لوگوں کی امداد کرنا چاہتی تھی جبکہ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے لوگوں کی مدد کرنا چاہتی تھی۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
2008 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے فوڈ اسٹیمپ پروگرام کی طرز پر بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تو اُس وقت ملک میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی شرح 17.2 فیصد جبکہ سال 2026 میں یہ شرح 29 فیصد ہے۔
یہ اعداد و شمار گو کہ فیصلہ کُن نہیں کیونکہ وقتاً فوقتاً ملک میں غربت کے پیمانے میں تبدیلی آتی رہتے ہیں اور اِس کے ساتھ ساتھ 2022 کے سیلاب، کووِڈ، معاشی سست روی، روپے کی قدر میں کمی یہ بھی وہ فیکٹرز تھے جنہوں نے غربت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اعدادوشمار اس بحث کو مزید دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر 838 ارب روپے کی موجودہ سالانہ رقم کو صرف چھوٹے کاروبار شروع کرانے کے لیے استعمال کیا جائے اور فی خاندان 5 لاکھ روپے کا بلاسود یا آسان شرائط پر قرض فراہم کیا جائے تو تقریباً 16 لاکھ 76 ہزار نئے کاروبار شروع کیے جا سکتے ہیں۔
اگر فی خاندان 3 لاکھ روپے دیے جائیں تو 27 لاکھ 90 ہزار خاندان اپنا کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ اس طرح اگر ہر نیا کاروبار اوسطاً صرف 2 افراد کو بھی روزگار فراہم کرے تو لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد براہ راست یا بالواسطہ معاشی سرگرمی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
’بی آئی ایس پی‘ کے لIے مختص رقم پیداواری معیشت کو بڑھانے کے لIے استعمال ہونی چاہیے، ماہرین کی آرا
30 جون کو اپنے ایکس پیغام میں معروف ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے سوال اُٹھایا کہ ’بی آئی ایس پی‘ پروگرام پر اب تک 4600 ارب روپے خرچ ہو چُکے ہیں اِس پروگرام سے اب تک کیا حاصل ہوا ہے؟ اُنہوں نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ اس پروگرام کا مقصد غریب ترین خواتین کو تحفظ فراہم کرنا تھا، مگر اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا یہ اب بھی غربت میں کمی کا پروگرام ہے یا ایک سیاسی برانڈڈ کیش مشین بن چکا ہے۔ انہوں نے مستحقین کی فہرست، شفافیت اور سیاسی استعمال پر سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق اگر ریاست صرف نقد رقوم تقسیم کرتی رہے لیکن روزگار، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور معاشی نمو پیدا نہ کرے تو غربت مستقل ختم نہیں ہو سکتی اور صرف پیداواری معیشت ہی غربت کے خاتمے کا پائیدار ذریعہ ہے۔
سابق وفاقی وزیر خزانہ اور ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا اپنے مختلف انٹرویوز میں کہہ چُکے ہیں کہ یہ ایک اچھا پروگرام ہے لیکن اس کو تعلیم، صحت اور روزگار کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے۔
سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کہہ چُکے ہیں کہ اس طرح کے ٹارگٹڈ کیش ٹرانسفر پروگرام دُنیا بھر میں رائج ہیں لیکن پاکستان میں اِنہیں ہنر سکھانے، چھوٹے کاروباری قرضے اور روزگار کی بڑھوتری کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مستقل غربت کا علاج صرف نقد امداد نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے۔













