کراچی غیرقانونی تعمیرات کیس: وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیے

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں غیرقانونی تعمیرات سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے زمینوں کے کنورژن اور غیرقانونی تعمیرات کے خلاف جاری کیے گئے احکامات واپس لے لیے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ بلڈنگ قوانین پر عملدرآمد صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، عدالتوں کی نہیں۔

جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ 10 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلڈنگ قوانین صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور آئین و قانون کے تحت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور صوبائی حکومت غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے پابند ہیں۔

یہ بھی پڑھیے سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت کسی بھی غیرقانونی تعمیر کو جائز قرار نہیں دے رہی، تاہم ایسی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے قوانین اور باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، جس پر عملدرآمد متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ نے لیاری میں ایک غیرقانونی تعمیر شدہ عمارت سے متعلق اپیل کی سماعت کے دوران معاملے کو پورے لیاری اور پھر کراچی شہر تک پھیلا دیا۔

فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے کراچی میں غیرقانونی شادی ہالز، شاپنگ سینٹرز، مارکیٹس اور کراچی ماسٹر پلان کے خلاف تعمیرات مسمار کرنے کے احکامات جاری کیے، جو عدالتی اختیارات سے تجاوز کے مترادف تھے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ نے آئینی تقاضے پورے کیے بغیر اپیل میں ازخود نوٹس کے اختیارات استعمال کیے، جبکہ صرف ایس بی سی اے کی رپورٹ کی بنیاد پر کسی بھی تعمیر کو منہدم کرنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔

فیصلے میں بنیادی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہر شہری کا حق ہے کہ اس کے معاملے کو مکمل قانونی عمل کے تحت سنا جائے اور کسی بھی کارروائی سے قبل قانون میں دیے گئے طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ

عدالت نے مزید کہا کہ اصل مقدمہ لیاری کی ایک عمارت سے متعلق تھا جو فریقین کے مطابق اب غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے مقدمے میں جاری تمام احکامات واپس لیتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔

فیصلے میں سندھ حکومت اور ایس بی سی اے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟