کیا ملکی وے کے سرد ترین ستارے دراصل خلائی مخلوق کے بنائے ہوئے ڈھانچے ہیں؟ نئی تحقیق میں دلچسپ امکان کا جائزہ

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں اس دلچسپ امکان کا جائزہ لیا ہے کہ ہماری کہکشاں ملکی وے میں موجود کچھ انتہائی سرد اجرام دراصل ستارے نہیں بلکہ کسی ترقی یافتہ خلائی تہذیب کے بنائے گئے توانائی حاصل کرنے والے بڑے ڈھانچے ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا خلائی مخلوق زمین کا سراغ ہوائی اڈوں کے ریڈار سگنلز سے لگا سکتی ہے؟ دلچسپ انکشاف

یونیورسٹی آف آرکنساس کے محقق امیر نظام امیری کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں ایسے فرضی ڈھانچوں کا مطالعہ کیا گیا ہے جنہیں سائنس کی دنیا میں ’ڈائسن سوارمز‘ کہا جاتا ہے۔

یہ تصور پہلی مرتبہ سنہ 1960 میں معروف ماہرِ طبیعیات فری مین ڈائسن نے پیش کیا تھا جس کے مطابق ایک انتہائی ترقی یافتہ تہذیب اپنے ستارے کے گرد ایسے مصنوعی ڈھانچے تعمیر کر سکتی ہے جو اس سے توانائی حاصل کریں۔

تحقیق کے مطابق جدید سائنس ایک مکمل خول نما ڈھانچے کے بجائے ڈائسن سوارم کے تصور کو زیادہ قابل عمل سمجھتی ہے۔ اس ماڈل میں ستارے کے گرد گردش کرنے والے متعدد آزاد ڈھانچے شامل ہوتے ہیں کیونکہ ماہرین کے مطابق کسی ستارے کو مکمل طور پر ایک خول سے گھیرنا انجینئرنگ کے اعتبار سے انتہائی مشکل ہوگا۔

محققین کا کہنا ہے کہ سرخ بونے ستارے ایسے مصنوعی میگا ڈھانچوں کے لیے موزوں امیدوار ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی عمر بہت طویل ہوتی ہے اور جسامت نسبتاً چھوٹی ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے: چاند کی گرد میں خلائی مخلوق کی تہذیبوں کے آثار چھپے ہو سکتے ہیں، نئی تحقیق

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کسی سرخ بونے ستارے کے گرد ڈائسن سوارم تقریباً 0.05 سے 0.3 فلکیاتی اکائی کے فاصلے پر قائم کیا جا سکتا ہے جس کے لیے سورج جیسے بڑے ستارے کے مقابلے میں بہت کم تعمیراتی مواد درکار ہوگا۔

ماہرین کے مطابق سفید بونے ستارے بھی ایسے ڈھانچوں کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی محدود جسامت انہیں توانائی کے استعمال کے اعتبار سے زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔

اگر مستقبل میں یہ نظریہ ثابت ہو جاتا ہے تو اس سے ماہرینِ فلکیات کا ستاروں اور کائنات کو سمجھنے کا انداز بدل سکتا ہے۔

سائنس دان ایسے ممکنہ مصنوعی ڈھانچوں کی تلاش کے لیے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کو اہم ذریعہ قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ دور دراز اجرام سے خارج ہونے والی انفراریڈ شعاعوں کا زیادہ حساس انداز میں مشاہدہ کر سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ہیفائیستوس جیسے منصوبے بھی لاکھوں ستاروں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کسی ترقی یافتہ خلائی تہذیب کی ممکنہ علامات تلاش کی جا سکیں۔

مزید پڑھیں: گلاسگو میں یو ایف او کانفرنس: ’کیا خلائی مخلوق ہمارے درمیان موجود ہے‘ پر گفتگو ہوگی

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ابھی ایک سائنسی امکان اور مفروضے کی سطح پر ہے جسے ثابت کرنے کے لیے مزید مشاہدات اور شواہد درکار ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نجی سرمایہ کاری کا منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کریں گے، یوئیفا کی فیفا کو وارننگ

سورینج کوئلہ کان حادثہ: بلوچستان حکومت کا جاں بحق مزدوروں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی معاونت کا اعلان

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفیکشن جاری

بے بنیاد الزامات پر پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کا حق محفوظ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا انتباہ

خضدار میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بارود سے بھری 2 گاڑیاں تباہ، 4 دہشتگرد ہلاک

ویڈیو

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ملتوی کیوں ہوئی؟ نظام تبدیل ہونے والا ہے، نئے صوبے ضروری

جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین