چاند کی گرد میں خلائی مخلوق کی تہذیبوں کے آثار چھپے ہو سکتے ہیں، نئی تحقیق

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چاند کی سطح پر موجود گرد میں کسی قدیم خلائی تہذیب کے آثار یا جدید ٹیکنالوجی کے انتہائی باریک ذرات موجود ہو سکتے ہیں جو مستقبل میں زمین سے باہر ذہین مخلوق کی تلاش میں اہم پیشرفت ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خلائی تحقیق میں چین کا نیا سنگِ میل، انسان کو چاند پر اتارنے کے لیے مشن کامیابی سے روانہ

تحقیق کی قیادت ماہر فلکیات ڈاکٹر برائن لاکی نے کی جن کا کہنا ہے کہ اب خلائی مخلوق کی تلاش صرف ریڈیو سگنلز یا براہ راست رابطے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ان تہذیبوں کے چھوڑے ہوئے غیر فعال تکنیکی آثار بھی تلاش کیے جانے چاہییں۔

تحقیق کے مطابق ایسی قدیم تہذیبوں کی ٹیکنالوجی تباہ ہونے کے بعد انتہائی باریک ذرات میں تبدیل ہو کر پورے نظامِ شمسی میں پھیل سکتی ہے جن میں سے کچھ چاند کی سطح پر جمع ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر لاکی نے غیر فعال خلائی ٹیکنالوجی کی 3 ممکنہ اقسام بھی بیان کی ہیں۔ پہلی قسم اوکلٹر ہے جو کسی ستارے کی روشنی کو مصنوعی انداز میں روکنے والا خلائی ڈھانچہ ہو سکتا ہے اور غیر معمولی نوعیت کے مصنوعی گرہن پیدا کر سکتا ہے۔

دوسری قسم ’گلنٹر‘ کہلاتی ہے جو ایک بہت بڑا عدسہ ہو سکتا ہے اور ستاروں کی روشنی کو موڑنے یا مرتکز کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔ تیسری قسم ’ڈیفیوزر‘ ہے، جو روشنی کو مخصوص انداز میں منتشر کرتا ہے اور سائنسی تحقیق یا پیمائش کے لیے استعمال ہونے والے آلات جیسا ہو سکتا ہے بالکل اسی طرح جیسے انسان چاند پر ریٹرو ریفلیکٹر نصب کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیے: اسپیس ایکس راکٹ کا ناکارہ حصہ چاند کے مدار میں، اگست میں بڑے ٹکراؤ کا امکان

تحقیق میں ٹیکنو گرینزکا تصور بھی پیش کیا گیا ہے جو انتہائی ترقی یافتہ خلائی ڈھانچوں، مثلاً ڈائسن اسفیئر کے نہایت باریک ذرات ہو سکتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ ذرات شمسی ہواؤں کے ذریعے پوری کہکشاں میں پھیل سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہمارا نظام شمسی خلا میں مسلسل سفر کر رہا ہے، اس لیے زمین، چاند اور دیگر سیارے ایک طرح سے کائناتی گرد جمع کرنے والے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر مستقبل میں چاند کی گرد کا انتہائی باریک سطح پر تجزیہ کیا جائے تو ممکن ہے اس میں کسی قدیم خلائی تہذیب کی ٹیکنالوجی کے ذرات دریافت ہو جائیں۔

مزید پڑھیں: تاریخی  چاند مشن کی کامیاب واپسی، براک اوباما کا آرٹیمس II کے خلانوردوں کو خراج تحسین

تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ فی الحال ایک سائنسی مفروضہ ہے اور اس کے حق میں ابھی کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں، البتہ مستقبل کی خلائی تحقیق اس نظریے کو جانچنے میں مدد دے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سلام آباد مفاہمتی یادداشت پر ازبکستان کی پاکستان کو مبارکباد، سفارتی کردار اور امن کوششوں کو سراہا

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی اہم بیٹھک، اسحاق ڈار قاہرہ روانہ

امریکا اور قطر کا ایران کے منجمد اربوں ڈالر جاری کرنے پر غور، 6 ارب ڈالر کی ابتدائی رقم تک رسائی کا امکان

بجٹ پائیدار معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی بنیاد بنے گا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

فیفا ورلڈ کپ: 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے والی پیراگوئے نے ترکیہ کو شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا

ویڈیو

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی، اسلام آباد کے شہریوں میں خوشی کی لہر

شہباز شریف کا وعدہ پورا، پیٹرول کی قیمت میں 74روپے کمی، امریکی نائب صدر نے اسرائیل کو کھری کھری سنادیں، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کو خراج تحسین

فیلڈ مارشل اور وزیراعظم نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچا لیا، جنگ ختم نہ ہونے پر پیٹرول کی قیمت 10ہزار روپے ہوتی؟

کالم / تجزیہ

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘