امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے درخواست موصول ہونے کے بعد امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی درخواست کی، جسے واشنگٹن نے قبول کر لیا ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا نے ایران کو دو ٹوک الفاظ میں آگاہ کر دیا ہے کہ جنگ بندی اب برقرار نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیں:نیٹو سربراہی اجلاس، صرف 48 گھنٹوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سفارت کاری کا رخ بدل دیا
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ’اسلامی جمہوریہ ایران نے ہم سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ہم نے اس پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، لیکن امریکا نے انہیں کسی بھی ابہام کے بغیر واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔‘
یہ بیان امریکا اور ایران کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والی شدید فوجی جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ حالیہ حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے علاقائی بحران کے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔
دوسری جانب قطر نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق قطری مذاکرات کار تہران پہنچ چکے ہیں تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
مزید پڑھیں:2 روزہ خونریز جھڑپوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان بندوقیں خاموش، سفارتی کوششیں دوبارہ تیز
ادھر حالیہ تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور وہاں نقل و حمل میں کمی نے عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جو پہلے ہی سپلائی کے مسائل سے دوچار ہیں۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اسرائیلی فوج نے لبنان کے مختلف علاقوں میں متعدد ڈرون اور فضائی حملے کیے، جس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے، تاہم ان کا یہ کہنا کہ ’جنگ بندی ختم ہو چکی ہے‘ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ صورتحال نہایت نازک اور غیر یقینی ہے۔
تاحال واشنگٹن اور تہران کی جانب سے مجوزہ مذاکرات کے وقت، مقام یا ایجنڈے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، جبکہ عالمی برادری خطے میں جاری سفارتی اور عسکری پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔














