سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو سرکاری بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی تجویز پر مبنی نجی بل کی منظوری دے دی۔
مجوزہ قانون کے تحت سابق اراکین کے شریکِ حیات اور 28 سال سے کم عمر زیر کفالت بچوں کو بھی مفت بلیو پاسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:علی امین گنڈاپور اپنی حکومت پر برس پڑے، ’بلیو پاسپورٹ اور مراعات مانگنے والے اراکین کے نام سامنے لائے جائیں‘
مجوزہ قانون ‘ممبرانِ پارلیمنٹ (تنخواہیں و مراعات) ترمیمی ایکٹ 2026’ کے عنوان سے سینیٹر عبدالقادر نے بطور نجی رکن پیش کیا، جس کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے منظوری دے دی۔
اہلِ خانہ بھی سہولت کے دائرہ کار میں شامل
بل کے مطابق سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے شریکِ حیات بھی بلا معاوضہ بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے، جبکہ 28 برس سے کم عمر زیر کفالت بچوں کو بھی سرکاری سفری دستاویز مفت فراہم کی جائے گی۔
ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹریز کے برابر مراعات دینے کی تجویز
بل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹریز اور ان کے اہلِ خانہ پہلے ہی اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں، لہٰذا سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو بھی اسی بنیاد پر مساوی مراعات دی جانی چاہییں۔
بلیو پاسپورٹ کن افراد کو جاری کیا جاتا ہے؟
امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے قواعد کے مطابق بلیو پاسپورٹ سینیٹرز، قومی اسمبلی کے ارکان، صوبائی وزرا، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں، سرکاری افسران اور سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے بیرونِ ملک جانے والے اہلکاروں کو جاری کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:بلیو پاسپورٹ سیاسی رشوت، وفاق ایسی قانون سازی پر عمل نہیں کرے گا، طلال چوہدری
سینیٹرز کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور
یہ پیش رفت مئی میں ہونے والے اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے، جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے حاضر سروس اور ریٹائرڈ سینیٹرز کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کے بل کی متفقہ منظوری دی تھی۔ اسی اجلاس میں سینیٹرز کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے کی الگ تجویز بھی زیر غور آئی تھی۔
وزارتِ داخلہ کی جزوی حمایت، بچوں کے معاملے پر تحفظات
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ وزارت کو حاضر سروس اور ریٹائرڈ سینیٹرز کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم 28 سال تک کے زیر کفالت بچوں کو یہ سہولت دینے پر بعض تحفظات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں سرکاری پاسپورٹس کے غلط استعمال کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، اس لیے اس معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔
غلط استعمال روکنے کے لیے سخت اقدامات پر زور
سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے سینیئر سرکاری افسران کے بالغ بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور وزارتِ داخلہ کو ہدایت کی کہ فعال بلیو پاسپورٹس کی مکمل تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔
اراکین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری پاسپورٹس کے کسی بھی ممکنہ غلط استعمال کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے، جس کے بعد کمیٹی نے حاضر سروس اور ریٹائرڈ سینیٹرز کو بلیو پاسپورٹ دینے کے بل کی متفقہ منظوری دے دی۔














