بلیو پاسپورٹ سیاسی رشوت، وفاق ایسی قانون سازی پر عمل نہیں کرے گا، طلال چوہدری

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

وفاقی وزیر مملکت طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے اراکین اسمبلی کو بلیو پاسپورٹ اور دیگر خصوصی مراعات دینے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مراعات دراصل ’سیاسی رشوت‘ ہیں، جن سے نہ صرف وی آئی پی کلچر کو فروغ ملتا ہے بلکہ پاکستان کے پاسپورٹ کی عالمی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت ایسی کسی قانون سازی پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔

وفاقی وزیر مملکت طلال چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کو خصوصی مراعات کے بجائے عام شہریوں کی طرح زندگی گزارنی چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عام آدمی کو مفت سفر، مفت اسلحہ لائسنس، سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں مفت رہائش، گاڑیوں پر کالے شیشے، خصوصی نمبر پلیٹیں، سرکاری سکیورٹی یا بلیو پاسپورٹ رکھنے کی سہولت حاصل ہے؟ اگر نہیں، تو منتخب نمائندوں کو بھی ایسی غیر ضروری مراعات نہیں ملنی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور اہلیہ کو بلیو پاسپورٹ، ٹول ٹیکس فری، ایئرپورٹ پر پروٹوکول، نئی مراعات میں مزید کیا ملے گا؟

انہوں نے کہا کہ جو جماعت وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے نعرے لگاتی تھی، آج وہی اپنے اراکین اسمبلی کو خصوصی مراعات دے کر اپنے ہی مؤقف کی نفی کر رہی ہے۔ ان کے بقول یہ تمام مراعات ایک “سیاسی رشوت” ہیں، جن کے ذریعے اپنی جماعت کے اراکین کو نوازا جا رہا ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ اگر یہ مراعات ختم کر دی جائیں تو منتخب نمائندے بھی عام شہریوں کی طرح زندگی گزاریں گے، کیونکہ عوامی خدمت کا تعلق مراعات سے نہیں بلکہ کارکردگی سے ہوتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال کی مثال پہلے بھی سامنے آ چکی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ پر یورپ کا سفر کیا، وہاں جا کر سیاسی پناہ کی درخواست دی اور اپنا پاکستانی پاسپورٹ سرنڈر کر دیا، جس سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہوئی۔

وفاقی وزیر مملکت نے کہا کہ ماضی میں ایسے ہی اقدامات کے باعث پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی، تاہم گزشتہ ڈھائی برس کے دوران حکومت نے پاسپورٹ کے سیکیورٹی فیچرز بہتر بنائے، جعلی پاسپورٹس کے اجرا کا خاتمہ کیا، پاسپورٹ کے اجرا کا نظام مزید شفاف بنایا اور غیر مستحق افراد سے سرکاری پاسپورٹس واپس لیے، جس کے نتیجے میں پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں تقریباً 25 سے 30 درجے بہتری آئی اور اس کی رینکنگ 100 سے نیچے آ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:لارڈز کی پچ پر سوالات، ڈبلیو ٹی سی فائنل کی میزبانی اوول منتقل ہونے کا امکان

انہوں نے کہا کہ انہی اصلاحات کی بدولت متعدد یورپی اور خلیجی ممالک نے پاکستانی سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری یا آسان سفری سہولتوں کے معاہدے کیے، جبکہ غیر مستحق افراد کے پاس موجود ریڈ پاسپورٹس کی تعداد بھی نمایاں طور پر کم کی گئی۔

طلال چوہدری نے کہا کہ اس کے برعکس بلیو پاسپورٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے پاسپورٹ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت ایسی کسی قانون سازی پر عمل درآمد کی پابند نہیں جو پاکستان کے مفاد، پاسپورٹ کی عالمی حیثیت یا قومی وقار کو نقصان پہنچائے۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس، بلاجواز بلیو پاسپورٹس اور دیگر غیر ضروری مراعات پر مبنی کسی بھی قانون یا فیصلے پر وفاقی حکومت عمل نہیں کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی بہن نورین نیازی کو متنازع بیان پر این سی سی آئی اے نے طلب کرلیا

افواجِ پاکستان قوم کا سرمایہ اور فخر، وقار مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ملک احمد خان

کراچی پورٹ پر ایک ساتھ 2 ہزار الیکٹرک گاڑیاں، آخر یہ پاکستان کے لیے اتنی بڑی خبر کیوں ہے؟

عطا اللہ تارڑ کا پی ٹی وی اسپورٹس ٹیم کو خراج تحسین، فیفا ورلڈ کپ کی خصوصی کوریج پر فخر کا اظہار

آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیل کی تلاش شروع کرنے پر کام ہورہا ہے، وزیر پیٹرولیم

ویڈیو

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

مذہبی روایات اور محبت سے بھرپور ڈراما سیریل ’دارالنجات‘ کا ٹیزر جاری، شہریار ، درِفشاں کا مرکزی کردار

آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش، نصرت جاوید نے ایرانی پراکسی کا کچا چٹھا کھول دیا

کالم / تجزیہ

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

کشکول کی تیاری

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟