متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے سابق رکنِ قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ نے کہا ہے کہ کراچی کو درپیش بیشتر مسائل کا بنیادی حل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140-اے پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد میں پوشیدہ ہے۔ ان کے مطابق جب تک بلدیاتی اداروں کو انتظامی، مالی اور سیاسی اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے، اس وقت تک شہری مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہو سکتے۔
وی نیوز کے لیے دیے گئے خصوصی پوڈکاسٹ میں سلمان مجاہد بلوچ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کو ملنے والے مالی وسائل وزیرِ اعلیٰ سندھ کی صوابدید پر خرچ کیے جاتے ہیں، جبکہ ان کی رائے میں یہ وسائل بااختیار بلدیاتی نظام کے ذریعے عوامی نمائندوں تک پہنچنے چاہییں تاکہ ہر ضلع اور ہر شہر کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کی طاقت عوام ہیں، خالد مقبول کا حکومت کے ساتھ اعتماد میں کمی کا اعتراف
انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت مالی وسائل براہِ راست بلدیاتی حکومتوں کو منتقل کیے جاتے تھے، جس سے مقامی حکومتوں کو فیصلے کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے میں زیادہ خودمختاری حاصل تھی۔
سلمان مجاہد بلوچ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 2022 میں ایم کیو ایم پاکستان اور وفاقی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی روح کے مطابق اقدامات نہ ہونے کے باعث شہری مسائل برقرار ہیں اور کراچی آج بھی بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر اور بلدیاتی اختیارات کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے شہری سندھ حکومت کی کارکردگی سے کس قدر مطمئن ہیں؟
پوڈکاسٹ کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے 2022 کے معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ اور بصورتِ دیگر احتجاج کی کال کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے، تو سلمان مجاہد بلوچ نے کہا کہ احتجاج کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔
ان کے مطابق اگر معاملات حل نہ ہوئے تو وفاقی کابینہ کے اجلاسوں کے بائیکاٹ سمیت دیگر سیاسی آپشنز پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں، جس میں ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے درمیان اختلافات سے متعلق پوچھا گیا، سلمان مجاہد بلوچ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ “ہلکی پھلکی موسیقی چلتی رہتی ہے۔” ان کے بقول سیاسی جماعتوں میں معمولی اختلافِ رائے فطری امر ہوتا ہے، تاہم اسے کسی بڑے بحران یا تقسیم سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ’کراچی کو حق دو‘ کے بینرز شائع کرنے والوں کو سیل کریں گے، مرتضیٰ وہاب
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر آئین کے آرٹیکل 140-اے پر مکمل عمل کیا جائے، بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تو کراچی کے عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی اور بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔













