امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز (سی ایف آر) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان حکومت کے تحت افغانستان ایک مرتبہ پھر دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے، جہاں القاعدہ سمیت متعدد شدت پسند گروہ بھرتی، تربیت اور سرحد پار کارروائیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی، داعش خراسان کے خطرات، خواتین پر پابندیوں اور انسانی بحران پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کے سینٹر فار پریونٹیو ایکشن کے گلوبل کنفلکٹ ٹریکر کی 6 جولائی 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق طالبان افغانستان پر اپنی نام نہاد سخت گیر شریعت کی تشریح کے ذریعے مکمل کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ القاعدہ سمیت مختلف دہشتگرد تنظیمیں افغانستان کو جنگجوؤں کی بھرتی، تربیت اور انہیں دیگر ممالک میں بھیجنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
اندیشکده امریکایی: طالبان افغانستان را به کانون تروریسم منطقهای تبدیل کرده است pic.twitter.com/DaIF4Fidvx
— رادیو افغانستان اینترنشنال (@AFIntlRadio) July 10, 2026
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی بدستور برقرار ہے، خواتین کے لیے محرم کے بغیر سفر اور عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے کی سخت شرائط نافذ ہیں، جبکہ افغان شہری خود بھی دہشتگرد حملوں کے مستقل خطرے سے دوچار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان صورتحال ’کھلی جنگ‘ کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی افغانستان سے مبینہ کارروائیوں کے جواب میں طالبان کے عسکری اہداف پر فضائی حملے کیے، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست بڑی فوجی جھڑپیں قرار دی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:75 فیصد افغان طالبان سے غیر مطمئن، کرپشن اور اقربا پروری پر اپنے ہی ارکان کی تنقید
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2025 پاکستان کے لیے ایک دہائی کا خونریز ترین سال ثابت ہوا، جس میں تنازعات سے متعلق ہلاکتوں کی تعداد 74 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ہزار 400 سے تجاوز کر گئی۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ چین نے ارومچی میں مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوشش کی، تاہم تاحال کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہو سکا۔
رپورٹ کے مطابق داعش خراسان اب بھی خطے اور اس سے باہر بڑے حملوں کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ افغانستان کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔ 2025 میں تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ افغان شہریوں کو انسانی امداد کی ضرورت تھی اور آبادی کے 28 فیصد سے زائد افراد غذائی قلت کا شکار رہے۔














