انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے الیکشن کمیشن کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی، رائٹرز کا دعویٰ

ہفتہ 11 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے وفاقی الیکشن اسسٹنس کمیشن کی قیادت کو برطرف کرنے سے قبل کئی ماہ تک ایسے قانونی اور انتظامی راستے تلاش کیے جن کے ذریعے اس ادارے کو نظرانداز کرتے ہوئے ووٹنگ مشینوں میں تبدیلیاں اور انتخابی اصلاحات نافذ کی جا سکیں۔ اس پیشرفت پر ڈیموکریٹک رہنماؤں نے شدید تنقید کرتے ہوئے اسے آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل انتخابی نظام پر صدارتی کنٹرول بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق معاملے سے آگاہ 4 ذرائع نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے کئی ماہ تک ایسے آپشنز پر غور کیا جن کے تحت ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے وفاقی الیکشن اسسٹنس کمیشن (ای اے سی) کو بائی پاس کیا جا سکتا تھا۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ کے بعض حکام کمیشن کی جانب سے ووٹنگ مشینوں کے رہنما اصولوں میں تبدیلی کی سست رفتار سے نالاں تھے اور چاہتے تھے کہ قومی میل اِن ووٹر رجسٹریشن فارم میں شہریت کا ثبوت لازمی قرار دیا جائے اور دیگر انتخابی ترجیحات بھی جلد نافذ کی جائیں۔

رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کمیشن کے دونوں ڈیموکریٹک کمشنرز کو برطرف کر دیا، جبکہ واحد ریپبلکن کمشنر کو مستعفی ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ چوتھے کمشنر پہلے ہی اپریل میں عہدہ چھوڑ چکے تھے۔ کمشنرز کی عدم موجودگی کے باعث کمیشن کے پاس مطلوبہ کورم نہیں رہا، جس کے نتیجے میں وہ ووٹنگ کے طریقہ کار یا قومی ووٹر رجسٹریشن فارم میں کسی نئی تبدیلی کی منظوری نہیں دے سکتا، اگرچہ ادارہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ انتظامیہ ابتدا ہی سے وفاقی اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر انتخابی دھوکا دہی اور بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے کام کر رہی ہے، خصوصاً نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر انتخابی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا امریکا اور ایران میں دوبارہ جنگ چھڑنے والی ہے؟ صدر ٹرمپ کا سنسنی خیز بیان سامنے آگیا

دوسری جانب ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اس اقدام کو انتخابی نظام پر قبضے کی کوشش قرار دیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے کہا کہ آزاد الیکشن کمیشن کو کمزور کر کے انتظامیہ آئندہ انتخابات سے پہلے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونا چاہتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال وائٹ ہاؤس، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور قومی انٹیلیجنس کے دفتر کے حکام نے قومی ایمرجنسی نافذ کر کے ایک وفاقی ٹاسک فورس قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا تھا، تاکہ ریاستوں کو الیکشن کمیشن کے بغیر ووٹنگ سسٹمز میں تبدیلیوں پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم یہ تجویز کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔

انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹنگ سسٹمز کے قواعد میں تبدیلی کا عمل فطری طور پر سست ہوتا ہے کیونکہ اس میں جدید ٹیکنالوجی، تکنیکی جانچ اور عوامی مشاورت سمیت کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ کانگریس نے مالی سال 2026 کے لیے الیکشن اسسٹنس کمیشن کو ریاستوں کے انتخابی نظام کی بہتری کے لیے 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مختص کیے ہیں، جبکہ 2018 سے اب تک کمیشن ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سے زائد کی گرانٹس تقسیم کر چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سیلاب سے خراب گندم نیلام کرنے کی تجویز، نقصان ایس پی وی کو منتقل کرنے کی سفارش

کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہر دھونس اور انتشار کا جواب دیا جائےگا، حکومت آزاد کشمیر، تعلیمی اداروں کے لیے انتباہ

مولانا فضل الرحمان کا بیان غیر ذمہ دارانہ، شہدا کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے : فیصل کریم کنڈی

ورلڈ کپ کے آخری مرحلے میں امریکا کے میزبان شہروں میں معاشی سرگرمیاں تیز، شائقین کی آمد سے کاروبار چمک اٹھا

آزاد کشمیر انتخابات: ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ، تمام ادارے کردار ادا کریں، چیف الیکشن کمشنر

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم