رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے وفاقی الیکشن اسسٹنس کمیشن کی قیادت کو برطرف کرنے سے قبل کئی ماہ تک ایسے قانونی اور انتظامی راستے تلاش کیے جن کے ذریعے اس ادارے کو نظرانداز کرتے ہوئے ووٹنگ مشینوں میں تبدیلیاں اور انتخابی اصلاحات نافذ کی جا سکیں۔ اس پیشرفت پر ڈیموکریٹک رہنماؤں نے شدید تنقید کرتے ہوئے اسے آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل انتخابی نظام پر صدارتی کنٹرول بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق معاملے سے آگاہ 4 ذرائع نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے کئی ماہ تک ایسے آپشنز پر غور کیا جن کے تحت ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے وفاقی الیکشن اسسٹنس کمیشن (ای اے سی) کو بائی پاس کیا جا سکتا تھا۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ کے بعض حکام کمیشن کی جانب سے ووٹنگ مشینوں کے رہنما اصولوں میں تبدیلی کی سست رفتار سے نالاں تھے اور چاہتے تھے کہ قومی میل اِن ووٹر رجسٹریشن فارم میں شہریت کا ثبوت لازمی قرار دیا جائے اور دیگر انتخابی ترجیحات بھی جلد نافذ کی جائیں۔
President Trump: “If They Beat Us, I’ll Say It Was Rigged Just Like the Election Was Rigged in 2020”
President Donald Trump said FIFA’s review of Folarin Balogun’s red card ensured the U.S. men’s national team will face Belgium with its full roster, arguing both teams should… https://t.co/4j5HFhVV8N pic.twitter.com/187MGUiioF
— News is Dead (@newsisdead) July 6, 2026
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کمیشن کے دونوں ڈیموکریٹک کمشنرز کو برطرف کر دیا، جبکہ واحد ریپبلکن کمشنر کو مستعفی ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ چوتھے کمشنر پہلے ہی اپریل میں عہدہ چھوڑ چکے تھے۔ کمشنرز کی عدم موجودگی کے باعث کمیشن کے پاس مطلوبہ کورم نہیں رہا، جس کے نتیجے میں وہ ووٹنگ کے طریقہ کار یا قومی ووٹر رجسٹریشن فارم میں کسی نئی تبدیلی کی منظوری نہیں دے سکتا، اگرچہ ادارہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ انتظامیہ ابتدا ہی سے وفاقی اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر انتخابی دھوکا دہی اور بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے کام کر رہی ہے، خصوصاً نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر انتخابی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا امریکا اور ایران میں دوبارہ جنگ چھڑنے والی ہے؟ صدر ٹرمپ کا سنسنی خیز بیان سامنے آگیا
دوسری جانب ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اس اقدام کو انتخابی نظام پر قبضے کی کوشش قرار دیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے کہا کہ آزاد الیکشن کمیشن کو کمزور کر کے انتظامیہ آئندہ انتخابات سے پہلے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونا چاہتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال وائٹ ہاؤس، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور قومی انٹیلیجنس کے دفتر کے حکام نے قومی ایمرجنسی نافذ کر کے ایک وفاقی ٹاسک فورس قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا تھا، تاکہ ریاستوں کو الیکشن کمیشن کے بغیر ووٹنگ سسٹمز میں تبدیلیوں پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم یہ تجویز کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔
انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹنگ سسٹمز کے قواعد میں تبدیلی کا عمل فطری طور پر سست ہوتا ہے کیونکہ اس میں جدید ٹیکنالوجی، تکنیکی جانچ اور عوامی مشاورت سمیت کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ کانگریس نے مالی سال 2026 کے لیے الیکشن اسسٹنس کمیشن کو ریاستوں کے انتخابی نظام کی بہتری کے لیے 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مختص کیے ہیں، جبکہ 2018 سے اب تک کمیشن ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سے زائد کی گرانٹس تقسیم کر چکا ہے۔














