پاکستان کا معاشی دارالحکومت، روشنیوں کا شہر کراچی، ایک بار پھر دنیا کے کم ترین قابلِ رہائش شہروں میں شامل ہو گیا ہے۔ اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ (ای آئی یو) کی تازہ ترین گلوبل لائیویبلٹی انڈیکس رپورٹ کے مطابق 173 شہروں میں کراچی کا نمبر 170 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں صرف 3 شہر ایسے ہیں جن کی درجہ بندی کراچی سے بھی نیچے ہے۔
یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر کسی شہر کو ’قابلِ رہائش‘ قرار دینے کا معیار کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ صرف بلند و بالا عمارتوں، بڑے شاپنگ مالز یا مصروف سڑکوں کا نام ہے؟ حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔
اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کسی بھی شہر کا جائزہ پانچ بنیادی شعبوں کی بنیاد پر لیتا ہے۔ ان میں سیکیورٹی اور استحکام، صحت کی سہولیات، تعلیم، انفراسٹرکچر، اور ثقافتی و ماحولیاتی ماحول شامل ہیں۔ ان تمام شعبوں کو مختلف نمبروں کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے، جس کے بعد مجموعی درجہ بندی سامنے آتی ہے۔
کراچی پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مرکز ہے، ملک کی بڑی بندرگاہیں یہیں موجود ہیں، صنعت، تجارت اور مالیاتی سرگرمیوں کا بڑا حصہ اسی شہر سے وابستہ ہے۔ لاکھوں لوگ روزگار کے لیے کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب اس شہر کو ٹوٹی ہوئی سڑکوں، ٹریفک جام، ناقص پبلک ٹرانسپورٹ، پانی کی قلت، سیوریج کے مسائل، آلودگی، غیر منصوبہ بند شہری توسیع اور کمزور شہری سہولیات جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
صحت کے شعبے میں اگرچہ کراچی میں بڑے سرکاری اور نجی اسپتال موجود ہیں، لیکن شہر کی آبادی کے مقابلے میں یہ سہولیات ناکافی سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی معیاری ادارے موجود ہیں، مگر ان تک ہر شہری کی یکساں رسائی نہیں۔
انفراسٹرکچر کے شعبے میں مسائل شاید سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ بارش کے چند گھنٹے پورے شہر کا نظام مفلوج کر دیتے ہیں، بجلی اور پانی کی فراہمی کے مسائل معمول بن چکے ہیں، جبکہ شہری نقل و حمل کا نظام بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی کے نجی اسکول کو غیرقانونی فیسوں میں اضافہ واپس لینے کا حکم
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس رپورٹ میں شہریوں کی محنت، برداشت یا جذبے کو نہیں، بلکہ شہر میں دستیاب سہولیات اور معیارِ زندگی کو جانچا جاتا ہے۔ کراچی کے باسی اپنی محنت، کاروباری صلاحیت اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی مثال ضرور ہیں، لیکن عالمی درجہ بندی بنیادی شہری خدمات اور حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
یہ رپورٹ صرف ایک نمبر نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے، جو یہ دکھاتی ہے کہ شہری منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور گورننس کے شعبوں میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ اگر کراچی کو واقعی دنیا کے بہترین شہروں کی صف میں کھڑا کرنا ہے تو صرف ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کافی نہیں ہوں گے، بلکہ پائیدار منصوبہ بندی، مؤثر عمل درآمد اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دینا ہوگی۔
آخرکار کراچی پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اگر یہ شہر بہتر ہوگا تو اس کے مثبت اثرات صرف کراچی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک کی معیشت اور معیارِ زندگی پر بھی مرتب ہوں گے۔













