نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے برطانیہ میں پاکستان کے نامزد ہائی کمشنر ٹیپو عثمان چوہدری سے ملاقات کرتے ہوئے پاک برطانیہ تعلقات کو سیاسی، اقتصادی اور عوامی سطح پر مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو بہتر قونصلر اور فلاحی خدمات کی فراہمی کو بھی اولین ترجیح قرار دیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق برطانیہ میں پاکستان کے نامزد ہائی کمشنر ٹیپو عثمان چوہدری نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔
Mr. Tipu Usman Chaudhry, High Commissioner-designate of Pakistan to the United Kingdom, called on Deputy Prime Minister and Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50.
DPM/FM underscored the significance of Pakistan-UK bilateral relations and directed the High… pic.twitter.com/rDgE9PoOMJ
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 11, 2026
ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نامزد ہائی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ دنیا میں مقیم سب سے بڑی، متحرک اور فعال پاکستانی کمیونٹیز میں سے ایک کا مسکن ہے، اس لیے ہائی کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مؤثر قونصلر خدمات اور فلاحی معاونت کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔
اسحاق ڈار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے فوری حل اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہائی کمیشن کو فعال اور عوام دوست کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع ایک قیمتی اثاثہ ہے، اسحاق ڈار
اس موقع پر نائب وزیراعظم نے ٹیپو عثمان چوہدری کی وزارت خارجہ میں چیف آف پروٹوکول کی حیثیت سے انجام دی گئی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے ٹیپو عثمان چوہدری کو برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر کی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنے نئے منصب پر پاکستان کے قومی مفادات کے فروغ، دوطرفہ تعلقات کے استحکام اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کی خدمت کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔














